تھرپارکر: بی آئی ایس پی میں ریکارڈ توڑ کرپشن، 3 ہزار روپے فی کارڈ کٹوتی،مستحق افراد دربدر،صحافیوں کودھمکیاں

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی)تھرپارکر ضلع میں ڈیوائس ہولڈرز نے شہید بینظیر بھٹو کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی نہیں بخشا۔ مستحق افراد کے حقوق پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ فی کارڈ 2 ہزار سے 3 ہزار روپے تک کٹوتی کی جا رہی ہے، جس پر مستحق افراد نے میڈیا کے سامنے فریاد کی۔ شکایات سامنے آنے پر ڈیوائس آپریٹرز سینٹر بند کر کے فرار ہو گئے، جس کے باعث دیہی علاقوں سے آنے والے غریب لوگ سارا دن دربدر ہوتے رہے۔ ڈیوائس مالکان نے صحافیوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

تفصیلات کے مطابق تھرپارکر ضلع میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیوائس ہولڈرز نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ چھاچھرو، اسلام کوٹ، نگرپارکر، کلوئی، چھلہار اور دیگر علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق ہر کارڈ پر 2 ہزار سے 3 ہزار روپے تک کٹوتی کی جا رہی ہے۔ جبکہ تھرپارکر کے ہیڈکوارٹر مٹھی شہر میں خود کو لیڈر کہلوانے والے ڈیوائس ہولڈرز نے بھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے پروگرام کو نہیں بخشا۔

غریبوں کا خون چوسنے والے یہ ڈیوائس ہولڈرز فی کارڈ 2 ہزار سے 3 ہزار روپے کی کٹوتی میں ملوث ہیں۔ ایسی شکایات قسط جاری کرنے والے مراکز پر موجود مستحق افراد نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیں۔

شکایات کی آواز اٹھانے پر ڈیوائس آپریٹرز نے ڈیوائسز بند کر دیں اور فرار ہو گئے، جبکہ دیہی علاقوں سے قسط لینے کے لیے آنے والے غریب لوگ دربدر ہوتے رہے۔ مراکز پر پینے کے پانی اور بیٹھنے کے لیے مناسب سہولیات نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔

مراکز پر موجود مستحق افراد نے میڈیا کو بتایا کہ فی کارڈ 2 ہزار سے 3 ہزار بلکہ 3 ہزار 500 روپے تک کٹوتی کر کے قسط دی جا رہی ہے۔ جب میڈیا نے اس بارے میں پوچھ گچھ کی تو ڈیوائس ہولڈر موقع پر پہنچ گیا اور دھمکیاں دینے لگا۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور مرکز سے نکالنے کی کوشش کی گئی۔ صحافیوں نے کہا کہ وہاں موجود مستحق افراد سے ہماری بات ہوئی ہے، ان پر شدید ظلم ہو رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

دوسری جانب ڈیوائس ہولڈر کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ خود کو سماجی کارکن اور پارٹی رہنما کہتا ہے۔ اگر واقعی وہ تھری لوگوں کے درد کو سمجھتا ہے تو اسے شہید محترمہ کے نام سے منسوب اس پروگرام پر رحم کرنا چاہیے تھا، مگر وہ کرپشن کو سماجی خدمت کا نام دے رہا ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کر کے ڈیوائس واپس لی جائے، بصورت دیگر صحافی ناجائز کٹوتی کی اجازت نہیں دیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button