ناکام شکاری: اسرائیل کی ‘ہنٹنگ پالیسی’ دفاعی ڈھال یا پورس کا ہاتھی؟

نہال معظم:
اسرائیلی ریاست کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ یا چن چن کر دشمنوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی دہائیوں پر محیط ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس کی افادیت پر اٹھنے والے سوالات اس حکمت عملی کے کھوکھلے پن کو ظاہر کر رہے ہیں۔ تاریخی طور پر اسرائیل نے ہمیشہ یہ سمجھا ہے کہ تحریکوں کی کمر توڑنے کے لیے ان کی قیادت کو ختم کرنا ہی سب سے موثر راستہ ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ثابت ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی اس ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان مزاحمتی تحریکوں نے اب "موزیک” (Mosaic) یا "ہائیڈرا” (Hydra) جیسی جدید دفاعی حکمت عملی اپنا لی ہے، جہاں تنظیم کسی ایک مرکز یا فرد کے بجائے کئی خود مختار اکائیوں میں بٹی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک سر کٹنے سے کئی نئے سر ابھر آتے ہیں اور تنظیمی ڈھانچہ متاثر ہونے کے بجائے مزید پھیل جاتا ہے۔
اگر اسرائیل کی اس پالیسی کی عملی مثالوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ حکمت عملی مزید سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے کیونکہ گزشتہ چند دہائیوں میں اسرائیل نے شیخ احمد یاسین، عبدالعزیز الرنتیسی، عماد مغنیہ، قاسم سلیمانی اور محمد الضیف جیسی متعدد اہم شخصیات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں سے ہر ایک شہادت کو وقتی طور پر ایک بڑی تزویراتی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا، مگر ان کے بعد نہ تو متعلقہ تحریکیں ختم ہوئیں اور نہ ہی ان کی مزاحمتی صلاحیت میں کوئی مستقل کمی واقع ہوئی۔ اس کے برعکس، ان واقعات نے اکثر ان تنظیموں کے اندر ایک نیا جوش بھر دیا اور بعض اوقات پہلے سے زیادہ شدت پسند قیادت کو جنم دیا، جیسا کہ شیخ احمد یاسین اور عبدالعزیز الرنتیسی کی شہادت کے بعد دیکھا گیا کہ حماس نہ صرف برقرار رہی بلکہ اس نے اپنی تنظیمی ساخت کو مزید مضبوط کرتے ہوئے سیاسی و عسکری دونوں محاذوں پر خود کو پہلے سے زیادہ منظم کر لیا۔
اسی طرح عماد مغنیہ کی شہادت کے باوجود حزب اللہ کی عسکری صلاحیت میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی، بلکہ وہ خطے میں ایک زیادہ منظم اور طاقتور قوت کے طور پر ابھری ہے۔ حال ہی میں لبنان میں ہونے والے "پیجر دھماکوں” اور سید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے منظر نامے نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ہنٹنگ پالیسی اب ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں انٹیلی جنس کی تکنیکی مہارت کسی پائیدار سیاسی حل کا متبادل ثابت نہیں ہو پا رہی۔ قاسم سلیمانی کی شہادت کو بھی ایک فیصلہ کن دھچکے کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد بھی ایران اور اس کے اتحادیوں کی مجموعی حکمت عملی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ موزیک حکمتِ عملی کی بدولت محض افراد کو ختم کرنے سے نظریات اور نیٹ ورکس ختم نہیں ہوتے بلکہ اکثر یہ عمل انہیں مزید مضبوط اور جذباتی بنیاد فراہم کر دیتا ہے۔ یہ پالیسی خود اسرائیل کے اپنے امن اور سیکیورٹی کو پورس کے ہاتھیوں کی طرح کچل رہی ہے، جو بظاہر دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے پالے گئے تھے مگر اب میدانِ جنگ میں بدک کر اپنی ہی فوج کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدامات دشمن کو سیاسی میز پر لانے کے بجائے انتقام کی آگ کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ اسرائیل کا یہ گمان کہ اہم شخصیات کے قتل سے تہران میں حکومت بدل جائے گی، ایک ایسی خام خیالی ثابت ہوئی ہے جس نے پورے خطے کو ایک لامتناہی جنگ میں دھکیل دیا ہے جہاں ہر نئی شہادت صرف ایک نئی اور زیادہ منظم مزاحمت کو جنم دے رہی ہے۔



