تھرکول بلاک ون اور ٹو میں مقامی لوگوں کی زمین اور گھروں کے مکمل معاوضے نہ ملنے پر شدید احتجاج، زہریلا پانی اور گرد و غبارسے بیماریوں میں اضافہ

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) تھرکول بلاک ون اور ٹو کی حدود میں آنے والی زمین کی ملکیت اور قبضے میں لیے گئے گھروں کا مکمل معاوضہ نہ ملنے کے باعث تھرپارکر کے لوگ غصے، بے چینی اور بے بسی کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے گاؤں تلوايو کے بے گھر کیے گئے کولہی برادری کے لوگ مسلسل اسلام کوٹ شہر میں احتجاج کرتے رہے، مگر انہیں معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔
کئی گاؤں کے چراگاہ (گوچر) بند ہو گئے، جس سے گزر بسر کا واحد ذریعہ یعنی مویشی پالنا مشکل ہو گیا، اور اس کے باعث تھرکول سے بے دخل کیے گئے لوگ مالی طور پر کمزور ہو گئے ہیں۔
تھر کول انتظامیہ پر الزام ہے کہ وہ مقامی لوگوں کو روزگار دینے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث تھری لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں اور روزانہ کسی نہ کسی بہانے سے مشکلات اور حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔
بھیم راج، ایڈووکیٹ لیلا رام اور دیگر سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہمارے لوگ کراچی اور حیدرآباد جاتے ہیں جہاں ان کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کیا جاتا ہے، اور اکثر غربت کے باعث وہ گندم، دھان اور دیگر فصلوں کی کٹائی پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں وہ بے سہارا زندگی گزارتے ہیں اور حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال قاضی احمد کے قریب ننگرپارکر کے تین بچوں کے جلنے کا واقعہ ہے۔
تھر کول میں ڈمپر ڈرائیوروں کے ساتھ بدسلوکی، تنخواہوں میں کٹوتی اور نوکریوں سے برطرفی بھی معمول بن چکی ہے۔ اس کی ایک مثال محمد بخش سومرو ہیں، جو اینگرو کمپنی میں ملازم تھے، انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں بحال نہ کیا گیا تو وہ احتجاجاً خودکشی کر لیں گے، مگر انتظامیہ نے اب تک اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا۔
کوئلہ کان کنی اور کھدائی کے باعث گرد و غبار بہت زیادہ اڑتا ہے، علاقہ دھند میں گھرا رہتا ہے اور خطرناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں، مگر اس کے مقابلے میں سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔گوڑانو ڈیم کی وجہ سے زیرِ زمین پانی زہریلا ہوتا جا رہا ہے۔کھلے عام چھوڑے گئے زہریلے پانی کے دلدل میں مویشی پھنس کر تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں۔
زہریلا پانی کھلے میں چھوڑنے سے مچھروں اور دیگر کیڑوں کی افزائش بڑھ گئی ہے، جس سے لوگ خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور درخت سوکھ کر تباہ ہو رہے ہیں اور علاقے کے رہائشی شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ اس کا کوئی متبادل حل موجود نہیں۔
تھر کول انتظامیہ کی جانب سے مقامی لوگوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔2640 میگاواٹ بجلی گزشتہ سات سال سے قومی گرڈ کو فراہم کی جا رہی ہے، مگر آس پاس کے گاؤں آج بھی اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
10 اپریل 2019 کو تھر کول بلاک ٹو میں پاور پلانٹ کا افتتاح کیا گیا تھا، اس وقت اعلان کیا گیا تھا کہ کوئلے سے حاصل ہونے والی تمام رائلٹی تھر کی ترقی پر خرچ کی جائے گی، مگر سات سال گزرنے کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا اور سماجی رہنماؤں کے مطابق تھر کول سے 40 ارب روپے کی رائلٹی حاصل ہو رہی ہے، مگر اب تک تھر کی ترقی نظر نہیں آتی۔



