سکھر اور روہڑی میں صاف پانی بحران سنگین، اربوں کے منصوبے فائلوں میں دفن، شہری بدبودار پانی پینے پر مجبور

سکھر (جانوڈاٹ پی کے)سندھ کا تیسرا بڑا شہر سکھر اور اس سے متصل تاریخی شہر روہڑی کئی برسوں سے صاف پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جس کے باعث شہری گندہ، بدبودار اور صحت کے لیے انتہائی مضر پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ آلودہ پانی کے استعمال سے پیٹ، جلد اور دیگر خطرناک بیماریوں میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سکھر اور روہڑی میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے مختلف ادوار میں اربوں روپے مالیت کے منصوبے منظور کیے گئے، متعدد سیاستدانوں نے دعوے اور وعدے کیے، تاہم آج تک کوئی بھی بڑا منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ نتیجتاً عوام کو آج بھی غیر معیاری اور آلودہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔
روہڑی شہر میں ڈی ایس پی آفس کے قریب قائم واٹر سپلائی اسکیم کی حالت انتہائی خستہ ہو چکی ہے، جو شہر اور گردونواح کے علاقوں کو پانی فراہم کرتی ہے۔ واٹر سپلائی کے مین لائن سسٹم میں مٹی، کچرا اور گندگی بھر جانے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کئی برسوں سے صفائی اور دیکھ بھال کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی میں بدبو اور رنگت کی تبدیلی معمول بن چکی ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال بھی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ دوسری جانب میونسپل اداروں کے پاس کروڑوں روپے کا سالانہ بجٹ ہونے کے باوجود صاف پانی کی فراہمی میں ناکامی پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہریوں نے صوبائی حکومت، کمشنر سکھر، ڈپٹی کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واٹر سپلائی نظام کی فوری صفائی، مرمت اور جدید بنیادوں پر بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔



