سکھر:جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر،شہریوں کی زندگی اجیرن، اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

سکھر(جانوڈاٹ پی کے)سینکڑوں سینٹری ورکرز ہونے کے باوجود شہر میں صفائی کا فقدان، شہری و سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر، چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق سکھر میونسپل کارپوریشن میں سیکڑوں سینٹری ورکرزسمیت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں متعددبھرتی نئے سینٹری ورکرز ہونے کے باوجود شہر سکھر میں صفائی کا فقدان دیکھائی دے رہا ہے، بلدیہ اعلیٰ سکھر کے زرائع کے مطابق سکھر میونسپل کارپوریشن میں سرکاری طور پر بھرتی ہونے والے سینٹری ورکروں کی تعداد800سو سے زائد ہے جبکہ سابق بلدیاتی دور میں شہر میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے400سے زائد سینٹری ورکرزکانٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی ہوئے ، متعلقہ اداروں کے افسران کی مجرمانہ غفلت اور مسلسل لاپرواہی کے باعث سکھر شہر میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کے باعث جگہ جگہ گندگی کے پڑے ڈھیروں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے جبکہ مصروف ترین شاہراﺅں پر جمع گندگی کے ڈھیروں سے اٹھنے والی تعفن کی وجہ وبائی امراض و بیماریاںپھیل رہی ہیں ، واضع رہے کہ سکھر کی 25یوسیز میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے1200افراد پر مشتمل سینٹری ورکرز جبکہ 100سینٹری انسپکٹر تعینات ہیں جبکہ شہر میں کچہرا اٹھانے کیلئے گاڑیوں کیلئے 100ڈرائیور بھرتی کئے گئے جبکہ فی یوسی میں سینٹری ورکرز کی تعداد25سے 30کے لگ بھگ ہے سکھر شہر میں صفائی کی ابتر صورتحال پر سکھر کے شہری و سماجی حلقوں میں گہری تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے اور انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر بلدیات سمیت کمشنر سکھر ، ڈپٹی کمشنر سکھر ، مئیر سکھر ، ڈسٹرکٹ کونسل چیئرمین دیگر متعلقہ محکموں کے بالا حکام سے نوٹس لیکر شہریوں کو بنیادی و بلدیاتی سہولیات فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔



