امریکی چرچ کے باہر جنازے پر حملہ،2 افراد ہلاک،6زخمی،حملہ آور فرار

سالٹ لیک سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی ریاست یوٹاہ کے دارالحکومت سالٹ لیک سٹی میں مورمن چرچ کے باہر فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں دو افراد ہلاک جبکہ چھ افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ بدھ کے روز دی چرچ آف جیزس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کی ایک اجتماع گاہ کی پارکنگ میں پیش آیا، جہاں درجنوں افراد ایک جنازے میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ اچانک فائرنگ سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور جنازے میں شریک افراد جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔

سالٹ لیک سٹی پولیس چیف برائن ریڈ نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ اتفاقی نہیں تھا، تاہم شواہد سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ حملہ کسی مخصوص مذہب یا عبادت گاہ کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے قبل پارکنگ ایریا میں کسی نوعیت کی تلخ کلامی یا جھگڑا ہوا تھا جو بعد میں پُرتشدد صورت اختیار کر گیا۔

چرچ کے ترجمان گلین ملز نے تصدیق کی کہ واقعے سے قبل پارکنگ میں تنازع دیکھا گیا تھا، جس کے فوراً بعد گولیاں چلائی گئیں۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور تقریباً 100 قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آور تاحال گرفتار نہیں ہو سکا، تاہم اس کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور مین ہنٹ جاری ہے، جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی بھی مقامی پولیس کی معاونت کر رہا ہے۔

سالٹ لیک سٹی کی میئر ایرن مینڈن ہال نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یہ واقعہ کسی عبادت گاہ کے باہر اور مرحوم کی یاد میں منعقدہ تقریب کے دوران پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔” انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور شہریوں کو یقین دلایا کہ مجرم کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

چرچ انتظامیہ نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا میں حالیہ مہینوں کے دوران عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر فائرنگ کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button