افغان طالبان نے گھٹنے ٹیک دئیے،چین کی ثالثی رنگ لے آئی!

​ارومچی/بیجنگ(خصوصی تجزیاتی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)​پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک انتہائی اہم اور بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق افغان طالبان نے پاکستان کے سامنے بڑا سرنڈر کرتے ہوئے دہشتگرد گروپس ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کیخلاف قابل تصدیق کارروائیوں کی تحریری یقین دہانی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے ان اہم مذاکرات میں، جہاں پاکستان کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام اور افغان طالبان کی ٹیئر ٹو لیڈرشپ آمنے سامنے بیٹھی، طالبان نے پہلی بار افغانستان میں ان دہشت گرد گروپس کی موجودگی اور میزبانی کا باقاعدہ اعتراف کیا ہے۔ چین نے اس پورے عمل میں ایک غیر جانبدار ثالث اور ضامن کا کردار ادا کیا ہے، اور اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے مرحلے میں بیجنگ میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ایک حتمی اور تاریخی معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔

​ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے ضمانت دی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا کسی ملک کی پراکسی کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیں گے، جبکہ جواب میں پاکستان نے بھی سرحدوں کو تجارت کے لیے کھلا رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور سی پیک (CPEC) کی افغانستان تک توسیع کی پیشکش نے طالبان کو اس مفاہمت پر مجبور کیا ہے، کیونکہ بیجنگ اب صرف ایک سرمایہ کار نہیں بلکہ خطے کے ‘سیکیورٹی آرکیٹیکٹ’ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اگرچہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان نظریاتی اور قبائلی روابط ایک بڑا چیلنج ہیں، تاہم پاکستان کے حالیہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور عالمی دباؤ نے کابل کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس سنسنی خیز ڈویلپمنٹ اور چین کے ‘پریشر گارنٹر’ بننے کے پس پردہ تمام حقائق جاننے کے لیے معروف تجزیہ کار معظم فخر کا خصوصی وی لاگ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے مکمل دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button