یوگنڈا میں چمپینزیوں کی “خانہ جنگی”! صدیوں پرانا امن معاہدہ ٹوٹ گیا، 24 ہلاکتیں

کمپالا (مانیٹرنگ ڈیسک)یوگنڈا کے کیبالے نیشنل پارک میں چمپینزیوں کے ایک بڑے گروہ میں طویل عرصے سے قائم ’’امن معاہدہ‘‘ ٹوٹ گیا ہے اور ایک پرتشدد داخلی تنازع نے جنم لے لیا ہے جسے ماہرین نے ’خانہ جنگی‘ سے تشبیہ دی ہے۔

 تحقیق کے مطابق نگوگو چمپینزیوں کی آبادی جو جنگلی چمپینزیوں کا سب سے بڑا ریکارڈ شدہ گروہ ہے اب دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے جنہیں مغربی اور مرکزی گروہ کہا جا رہا ہے۔

 2018 سے اب تک محققین نے 24 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جن میں 17 نوزائیدہ شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ لڑائی صرف جھگڑوں تک محدود نہیں رہی بلکہ منظم حملوں اور تشدد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

 یونیورسٹی آف ٹیکساس کے پرائمیٹولوجسٹ آرون سینڈل کے مطابق یہ حملے انتہائی پرتشدد ہیں جن میں مارپیٹ کاٹنے اور گھسیٹنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

  تحقیق  میں بتایا گیا ہے کہ یہ چمپینزی پہلے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے اور تعاون کرتے تھے مگر اب ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں۔

  یونیورسٹی آف مشی گن کے پروفیسر جان متانی کے مطابق گروہ کا حد سے زیادہ بڑا ہونا اور وسائل پر دباؤ اس تنازع کی بڑی وجوہات ہو سکتے ہیں۔

 محققین کے مطابق قیادت کی تبدیلی بیماریوں کی وبا اور سماجی روابط کے ٹوٹنے نے بھی اس تقسیم کو بڑھایا۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال انسانی معاشروں میں گروہی تقسیم اور دشمنی کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

 ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے مشاہدات انسانی ارتقا اور سماجی رویوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مستقبل کی تحقیق کے لیے نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button