وزیرآباد: غربت میں پھنسے ننھے بچے، تعلیم کے بجائے محنت پر مجبور

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے)غربت کی چکی میں پھنسے ننھے منے بچے، تعلیم اور بوڑھے والدین کا سہارا بنے ہوئے ہیں ۔غربت کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے معاشرے کے کمزور طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں کم عمر بچے کھیل کود اور تعلیم کے دنوں میں محنت مزدوری پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ شہر کے مختلف چوراہوں، بازاروں اور سڑک کنارے ننھے منے بچے بوٹ پالش کرتے، مکئی کے سٹے اور خشک و نمکین بھنے ہوئے چنے فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بچے نہ صرف اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں بلکہ بوڑھے اور بیمار والدین کا سہارا بھی بنے ہوئے ہیں۔ان بچوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں آمدن کا کوئی مستقل ذریعہ نہ ہونے کے باعث انہیں کم عمری میں ہی روزگار کی تلاش کرنا پڑی۔ کئی بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور دوپہر کے بعد محنت مزدوری کرکے اپنی کتابیں، کاپیاں اور فیس کا بندوبست کرتے ہیں۔ تاہم کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو غربت کے باعث اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ہمارے اجتماعی نظام پر سوالیہ نشان ہے، جہاں ریاستی و سماجی ذمہ داریوں کی کمی کے باعث بچے مشقت پر مجبور ہیں۔ ماہرین کے مطابق کم عمری میں محنت بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر منفی اثر ڈالتی ہے اور انہیں ایک روشن مستقبل سے دور کر دیتی ہے۔شہریوں نے حکومت پاکستان،وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف اور فلاحی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی وظائف، مفت کتابیں، اور خاندانوں کے لیے معاشی امداد فراہم کی جائے تاکہ بچے مزدوری کے بجائے اسکولوں کا رخ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔یہ ننھے ہاتھ جو آج محنت کی گرد میں اٹے ہوئے ہیں، اگر انہیں تعلیم اور تحفظ فراہم کیا جائے تو یہی بچے کل قوم کا قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں۔



