ایران کی جیت: امریکی فوج میں بغاوت اور ٹرمپ کےسرنڈر کی اندرونی کہانی

لاہور: خصوصی تجزیاتی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں گزشتہ رات ایک ایسا ڈرامائی موڑ آیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ معظم فخر نے اپنے تازہ ترین وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی مہلت ختم ہونے میں جب محض ایک گھنٹہ اور 28 منٹ باقی تھے، تو انہوں نے اچانک دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی (Ceasefire) کا اعلان کر دیا۔ اس "سرنڈر” کی سب سے بڑی وجہ امریکی فوج (پینٹاگون) کی جانب سے سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کے حکم پر تحفظات اور اندرونی سیاسی دباؤ بتایا جا رہا ہے۔ پینٹاگون نے واضح کر دیا تھا کہ 200 سویلین مقامات پر حملے ‘وار کرائمز’ کے زمرے میں آئیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری صدر ٹرمپ پر ہوگی۔
تجزیہ کار کے مطابق، اس جنگ بندی کی شرائط دراصل ایران کی جیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں جس اعلامیے کو شیئر کیا، وہ ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا تیار کردہ تھا، جس میں ابنائے ہرمز پر ایرانی فوج کے کنٹرول کو تسلیم کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت اگلے دو ہفتوں تک تیل بردار جہازوں کا گزرنا ایرانی فوج کی اجازت اور تکنیکی حدود کے تابع ہوگا۔ یہ ایران کی ایک بڑی سفارتی اور عسکری فتح ہے کہ دنیا کی سپر پاور کو اس کی شرائط پر جنگ روکنی پڑی۔ اس دوران ایران کے عوام نے اپنے گرڈ اسٹیشنز اور پلوں کے گرد انسانی زنجیر بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنے وطن کا دفاع کریں گے۔
اس پورے بحران میں پاکستان کا کردار سب سے نمایاں رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کے بعد حملے معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 10 اپریل کو اسلام آباد میں امن مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جس میں پاکستان ثالث کے طور پر کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اگرچہ اسرائیل نے بادلِ نخواستہ اس ڈیل کو قبول کیا ہے لیکن لبنان پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کر کے ایک نئی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو بھرپور طریقے سے سراہا جا رہا ہے۔
اس تاریخی بریک تھرو اور ٹرمپ کے پیچھے ہٹنے کی مکمل کہانی جاننے کے لیے معظم فخر کا یہ خصوصی وی لاگ دیکھیں:




