ایران جنگ بندی کیلئے امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا، ٹرمپ 21 مارچ سے جنگ بندی کے خواہاں تھے: برطانوی اخبار

لندن(جانوڈاٹ پی کے)ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی جنگ بندی سے قبل  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک جانب ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے اور دعویٰ کرتے رہے کہ تہران معاہدے کے لیے ’منتیں کر رہا ہے‘ جبکہ دوسری جانب امریکا عارضی جنگ بندی کی کوششیں کررہا تھا۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کئی ہفتوں سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ ایران کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کرے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے۔

اخبار کے مطابق پاکستان نے بطور مسلم اکثریتی ہمسایہ اور ثالث، ایران کو اس پر قائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اخبار نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں جاری بیک چینل سفارتی کوششوں کا نتیجہ منگل کی رات اس اعلان کی صورت میں نکلا جس میں امریکا، اسرائیل اور ایران  نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے امریکی شرائط نہ مانیں تو  ایک پوری تہذیب کو تباہ کردیا جائے گا۔

اخبار کے مطابق  تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ایرانی حکومت کی غیر متوقع مزاحمت کے باعث ٹرمپ کم از کم 21 مارچ سے جنگ بندی کے خواہاں تھے جب انہوں نے ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

مزید خبریں

Back to top button