مٹھی و تھرپارکر میں مضرِ صحت کیسٹر آئل کی کھلے عام فروخت، محکمہ صحت خاموش

مٹھی(رپورٹ : میندھرو کاجھروی)مٹھی سمیت ضلع تھرپارکر کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں صحت کے لیے مضر صحت کیسٹر آئل کی فروخت عروج پر پہنچ گئی۔
محکمہ صحت کی جانب سے انسانی جان کے لیے نقصان دہ قرار دیے جانے والے چربیلے تیل کے عام استعمال پر حکام خاموش اور سوئے ہوئے ہیں۔
غيرقانوني تيل تيار کردہ کمپنیاں شہروں اور دیہاتوں سمیت ضلع بھر میں ٹینکوں میں غیر پراسیس شدہ کیسٹر آئل فراہم کر رہی ہیں۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق ڈبوں میں فروخت ہونے والا تیل مختلف مردہ جانوروں کی چربی اور خون سے تیار کیا جاتا ہے۔
غیر پراسیس شدہ کیسٹر آئل میں مہارت رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے غیر پراسیس شدہ تیل کے استعمال سے دل، ذیابیطس، بلڈ پریشر، جلد اور حتیٰ کہ اندھے پن جیسی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ تحقیقات کے پیش نظر فوڈ اتھارٹی نے اس تیل پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن اب بھی یہی استعمال جاری ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑے گھپلوں اور رشوت ستانی کی وجہ سے دوسرے درجے کے کیسٹر آئل پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
ادھر شہریوں کا کہنا ہے کہ دکاندار بھاری رشوت دے کر سستا اور غیر صحت بخش تیل فروخت کرتے ہیں جس کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر، ایس ایس پی اور فوڈ اتھارٹی سوئے ہوئے ہیں۔
شہریوں اور سیاسی وسماجی حلقوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی صحت کے لیے مضر صحت کمپنیوں کو بند کیا جائے اور کیسٹر آئل کھلے عام فروخت کرنے والے تاجروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔



