ڈھورو اور ہاکڑو پران کے بحالی میں کرپشن کے الزامات،تعمیراتی پل کا کام8سال سے بند

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)
ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے شروع کیے گئے ڈھورو پرانے اور ہاکڑو پرانے کے بحالی منصوبے میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مقامی سیاسی اور سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے کے فنڈز جاری ہونے کے باوجود ڈھورو پران اور ہاکڑو پران پر صرف دکھاوے کے کام کیے گئے، جبکہ جعلی بلوں کے ذریعے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق ڈھورو پران کے دونوں طرف پانی روکنے اور مضبوط بند بنانے کا کام مکمل طور پر نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے ہر برسات کے موسم میں پانی کی سطح بلند ہونے سے علاقے کے کھیت، گھر اور گاؤں شدید خطرے میں آجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے سے تعمیر کیے گئے بند کئی مقامات سے ٹوٹ چکے ہیں، جس سے پانی کا بہاؤ مزید خطرناک ہوگیا ہے۔
آبادگاروں کا کہنا ہے کہ ڈھورو پران پر ضروری پل نہ بننے کی وجہ سے لوگ روزانہ کی بنیاد پر شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ پچھلے برسات کے موسم میں ڈھورو پران عبور کرنے کے دوران ایک عورت اور معصوم بچوں سمیت 17 افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے، جس کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔
ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک کے اربوں روپے لاگت والے ڈھورو پران بحالی منصوبے میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی۔ الزام ہے کہ منصوبے کی رقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بااثر شخص کا فرنٹ مین بدین اور تھرپارکر میں تقریباً ہزار ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین خرید چکا ہے، جبکہ دیگر کاروباری سرگرمیوں میں بھی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
مقامی لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ڈھورو پران پر موجود ایک پل، جس پر تقریباً 20 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے، اسے مبینہ طور پر توڑ کر اس کا لوہا اور دیگر سامان 15 سے 20 لاکھ روپے میں میرپورخاص کے کباڑ بازوں کو فروخت کیا گیا، جو قومی اثاثوں کے ساتھ کھلی ناانصافی قرار دی گئی ہے۔
اس حوالے سے سیاسی اور سماجی رہنما ارشاد علی لنڈ اور سماجی کارکن بلاول لنڈ نے سندھ حکومت، چیف سیکرٹری سندھ اور چیئرمین نیب سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈھورو پران بحالی منصوبے میں مبینہ میگا کرپشن کی شفاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا جائے اور ذمہ دار افسران، ٹھیکیداروں اور دیگر ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جلد شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو وہ نیب، ایف آئی اے اور ورلڈ بینک کو باضابطہ درخواستیں دے کر بین الاقوامی سطح پر بھی انکوائری کرانے کے لیے اقدامات کریں گے۔ مزید کہا گیا کہ عوامی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے کی گئی اس کرپشن سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا بلکہ ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دی گئیں۔



