لیجنڈری برطانوی گلوکارہ بونی ٹائلر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

لندن(جانوڈاٹ پی کے)اپنی منفرد آواز اور لازوال گانوں کے ذریعے دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والی برطانوی پاپ گلوکارہ بونی ٹائلر 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ ان کے اہلِ خانہ نے جمعرات کو ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے پرتگال کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھیں، جہاں بیماری کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔
گلوکارہ کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ بونی ٹائلر کے اہلِ خانہ اور ان کی ٹیم گہرے صدمے میں ہیں۔ بیان کے مطابق وہ جس بیماری کا علاج کروا رہی تھیں، اسی کے باعث گزشتہ شب پرتگال کے اسپتال میں ان کا انتقال ہوا۔
ویلز سے تعلق رکھنے والی بونی ٹائلر نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں اپنی منفرد آواز اور یادگار گانوں ’’ٹوٹل ایکلیپس آف دی ہرٹ‘‘، ہولڈنگ آؤٹ فار اے ہیرو‘‘ اور دیگر کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کی منفرد آواز ہی ان کی پہچان بن گئی تھی اور اسی انداز نے انہیں موسیقی کی دنیا میں ایک منفرد مقام دلایا۔
رواں برس جون میں ان کے اہلِ خانہ نے بتایا تھا کہ آنت میں سوراخ ہونے کے باعث ہنگامی آپریشن کے بعد انہیں تقریباً ایک ماہ تک مصنوعی بے ہوشی میں رکھا گیا تھا۔ اگرچہ وہ کوما سے باہر آگئی تھیں، تاہم ان کی طبیعت بدستور تشویشناک تھی اور وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرِ علاج رہیں، جس کے باعث اگست تک کے تمام میوزک شوز بھی منسوخ یا مؤخر کر دیے گئے تھے۔
بونی ٹائلر کے نمائندے اور معروف میوزک ایگزیکٹو جڈ لینڈر نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بونی جیسی شخصیت دوبارہ پیدا نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق وہ شاندار حسِ مزاح، غیر معمولی آواز اور اسٹیج پر جادو جگانے کی صلاحیت رکھتی تھیں، دنیا ایک عظیم فنکار سے محروم ہوگئی ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں برطانیہ کی عظیم ترین گلوکاراؤں میں شمار کیا۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بونی ٹائلر اپنے پیچھے ایسا موسیقی کا خزانہ چھوڑ گئی ہیں جو آنے والے برسوں تک لوگوں کے دلوں، ڈانس فلورز اور کراوکی محفلوں کو آباد رکھے گا۔ ویلز کی سیکریٹری جو اسٹیونز نے بھی انہیں ’’ویلش موسیقی کی آئیکون‘‘ قرار دیتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
بونی ٹائلر کا اصل نام گینر ہاپکنز تھا۔ وہ ویلز کے ایک کوئلہ کان کن کے گھر پیدا ہوئیں اور ایک متوسط گھرانے میں پرورش پائی۔ چھ بہن بھائیوں میں شامل بونی نے بچپن میں چرچ میں مذہبی نغمے گائے اور بعد ازاں رات کے وقت نائٹ کلبوں میں پرفارم کرنے کے ساتھ ساتھ دن میں ایک گروسری اسٹور میں ملازمت بھی کی۔
1975 میں انہوں نے آر سی اے ریکارڈز کے ساتھ معاہدہ کیا اور ’’بونی ٹائلر‘‘ کے نام سے اپنے موسیقی کے سفر کا آغاز کیا۔ دو سال بعد آواز کی سرجری کے نتیجے میں ان کی آواز مزید کھرکھری ہوگئی، جو بعد میں ان کی پہچان بن گئی۔ 1980 کی دہائی میں پروڈیوسر جم اسٹین مین کے ساتھ ان کی شراکت نے انہیں عالمی شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا، جبکہ 1983 میں ان کا گانا ’’ٹوٹل ایکلیپس آف دی ہرٹ‘‘برطانیہ اور امریکا دونوں کے میوزک چارٹس میں پہلے نمبر پر پہنچا اور بعد ازاں ایک ارب سے زائد مرتبہ اسٹریم ہونے والا مقبول ترین گانا بن گیا۔
اپنے شاندار کیریئر کے دوران بونی ٹائلر کو تین مرتبہ گریمی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا، انہوں نے 2013 میں برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے یورو ویژن سانگ کانٹیسٹ میں بھی حصہ لیا، جبکہ 2023 میں انہیں ملکہ الزبتھ دوم کی جانب سے موسیقی کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں اعزازی تمغہ بھی دیا گیا۔
بونی ٹائلر اپنے شوہر رابرٹ سلیوان کے ساتھ پرتگال کے شہر فارو میں مقیم تھیں۔ دونوں نے 1973 میں شادی کی تھی، تاہم ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کے انتقال پر دنیا بھر سے مداحوں، فنکاروں اور موسیقی سے وابستہ شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، جبکہ ان کے اہلِ خانہ نے کہا ہے کہ آخری رسومات سے متعلق اعلان بعد میں کیا جائے گا اور اس مشکل وقت میں ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے۔



