طارق رحمان: 18 ماہ کی قید اور 17 سال جلاوطنی کاٹنے والے بنگلہ دیش کےممکنہ وزیرِاعظم کون ہیں؟

ڈھاکہ(جانوڈاٹ پی کے)بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی انتخابی دنگل میں نمایاں کامیابی کے بعد اس کے چیئرمین طارق رحمان ملک کے ممکنہ وزیراعظم کے مضبوط امیدوار بن گئے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی کے رہنما امیر خسرو محمود چوہدری نے بتایا کہ حکومت بننے کی صورت میں وزارت عظمیٰ کے لیے طارق رحمان ہی ہمارے واحد امیدوار ہوں گے۔
طارق رحمان کی والدہ سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا تھیں جو طویل قید کاٹنے کے بعد حسینہ واجد کے فرار ہونے کے بعد رہا ہوئین لیکن بیماری کے باعث حال ہی انتقال کرگئی تھیں۔
طارق رحمان کے والد ضیا الرحمان فوجی افسر ہونے کے علاوہ ملک کے سابق صدر بھی تھے اور بنگلادیش کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔
60 سالہ طارق رحمان نے اس سیاسی خانوادے سے تعلق کی بنیاد پر جیل کی صوبتیں بھی برداشت کیں اور حکومتی عہدے بھی حاصل کیے۔
وہ 2007 میں حسینہ واجد کے دور میں کرپشن الزامات پر گرفتار ہوئے اور تقریباً 18 ماہ جیل میں گزارے۔
بعد ازاں 2008 میں رہائی کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے تقریباً 17 سال جلاوطنی میں گزارے۔
اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی حالات تبدیل ہوئے اور طارق رحمان دسمبر 2025 میں ڈھاکا واپس آئے۔
تاہم ان کی والدہ خالدہ ضیا وفات پاگئیں اور جنوری 2026 میں انہیں باضابطہ طور پر بی این پی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا۔
جماعت میں کردار اور قیادت
اگرچہ وہ ملک سے باہر تھے، تاہم 2018 میں خالدہ ضیا کی قید کے بعد وہ قائم مقام چیئرمین کے طور پر پارٹی کی قیادت کرتے رہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انہوں نے بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی پارٹی کو متحد رکھا اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تنازعات اور الزامات
طارق رحمان پر ماضی میں کرپشن اور 2004 میں شیخ حسینہ کے جلسے پر دستی بم حملے سے متعلق مقدمات قائم ہوئے، جن میں انہیں سزائیں بھی سنائی گئیں۔
تاہم بعد ازاں سیاسی تبدیلیوں کے بعد وہ ان مقدمات سے بری ہو گئے۔ بی این پی کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمات سیاسی انتقام کا نتیجہ تھے۔
ان کی تعلیمی قابلیت بھی موضوعِ بحث رہی ہے۔ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے حلف نامے کے مطابق ان کی تعلیم ’اعلیٰ ثانوی‘ درج ہے۔



