تھرپارکر میں بی آئی ایس پی اقساط میں کٹوتی، ایف آئی اے کے چھاپے، 2افراد گرفتار، ہزاروں خواتین دربدر

تھرپارکر (رپورٹ : میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی اقساط میں کٹوتیوں اور ڈیوائس ہولڈرز کی مبینہ کرپشن کے خلاف بلاول ہاؤس کے ترجمان سریندر ولاسائی کی جانب سے یکم جنوری کو ایف آئی اے کو لکھے گئے خط کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم نے تھرپارکر میں چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

کلوئی کے ہائی اسکول میں چلنے والے بی آئی ایس پی ڈیوائس ہولڈرز پر چھاپہ مار ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

ادھر کلوئی میں چھاپوں کی اطلاع ملتے ہی ڈیپلو کے تمام ڈیوائس ہولڈرز فرار ہو گئے، جبکہ ڈیپلو پولیس نے تین ڈیوائسز اپنی تحویل میں لے لیں، تاہم ان کے خلاف تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ڈیوائس ہولڈرز بہتر اور ایمانداری سے کام کرنے کے بجائے ڈیوائسز بند کر کے روپوش ہو گئے ہیں، جس کے باعث کلوئی اور ڈیپلو میں ڈیوائسز بند ہونے سے اقساط لینے آنے والے ہزاروں مرد و خواتین دربدر ہو گئے ہیں۔

اس حوالے سے بلاول ہاؤس کے ترجمان اور ایم پی اے سریندر ولاسائی کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے ٹیم کے چھاپے سے پانچ منٹ قبل ڈیپلو پولیس نے ڈیوائس ہولڈرز کو فرار ہونے میں مدد دی، جبکہ کلوئی سے گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھاپوں کے بعد کرایہ ادا کر کے آنے والی ہزاروں خواتین اور ان کے اہل خانہ واپس جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عید قریب ہے، غریب لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے، اور ڈیپلو پولیس کی جانب سے تحویل میں لی گئی ڈیوائسز کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ کھیتلاری موڑ پر گزشتہ تین دنوں سے ڈیوائس ہولڈرز ہر کارڈ پر 1500 روپے کی کٹوتی کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button