سریندر ولاسائی کی جان کو خطرہ،بلاول بھٹو زرداری کا نوٹس، تحقیقاتی کمیٹی قائم فوری رپورٹ طلب

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی، نمائندہ جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ اسمبلی کے اقلیتی رکن سریندر ولاسائی کو لاحق جان کے خطرات اور ان کی جانب سے انچارج بلاول ہاؤس کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے معاملے کا سختی سے نوٹس لے لیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تھرپارکر کے تعلقہ کلوئی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے تعلقہ دفتر کے لیے خریدے گئے پلاٹ اور ایم پی اے سریندر ولاسائی کے ماموں کے پلاٹ پر مبینہ طور پر منشیات فروشوں کے قبضے کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد انہوں نے انچارج بلاول ہاؤس کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سندھ اسمبلی کے اسپیکراویس قادر شاھ کی سربراہی میں کام کرے گی۔ کمیٹی میں صوبائی وزیر محنت سعید غنی، ایم پی اے جمیل سومرو، وزیر ایکسائز مکیش چاولا اور سہیل انور سیال بطور ارکان شامل ہوں گے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی مکمل انکوائری کر کے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس بھی فریق کی زیادتی ثابت ہوئی، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بروقت نوٹس لینے پر ایم پی اے سریندر ولاسائی نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی قیادت کے شکر گزار ہیں کہ ان کے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیٹی انصاف کے تقاضوں کے مطابق معاملے کا جائزہ لے گی اور پارٹی و عوام کے مفاد میں مسائل کا حل نکالے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ قیادت کے سامنے پیش ہونے تک وہ خاموش رہیں گے۔



