بے نظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ، جرات، قیادت اور جمہوری جدوجہد کی لازوال داستان

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم اور پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
بے نظیر بھٹو، جنہیں "دخترِ مشرق” کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے، اپنی قائدانہ صلاحیتوں، جمہوری جدوجہد اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کے باعث ایک منفرد سیاسی شخصیت کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ ان کی زندگی جرات، ذہانت، حوصلے اور فیصلہ سازی کی ایک روشن مثال سمجھی جاتی ہے۔
21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہونے والی بے نظیر بھٹو پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وطن واپسی کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا شروع کیا۔
1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے اور بعد ازاں عدالتی کارروائیوں کے دوران بے نظیر بھٹو نے سیاسی و قانونی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا اور مسلسل عدالتی پیشیوں کا سامنا کیا۔
1982 میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جلاوطنی کے بعد وطن واپسی پر انہوں نے 1988 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں، جبکہ 1993 میں وہ دوبارہ اس منصب پر فائز ہوئیں۔
2007 میں 9 سالہ جلاوطنی کے بعد بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں اور سیاسی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کیا۔ تاہم 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد انہیں حملے میں شہید کر دیا گیا۔
ان کی سیاسی زندگی آج بھی پاکستان میں جمہوریت، خواتین کی قیادت اور سیاسی جدوجہد کی علامت کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔



