باقر قالیباف کی شہادت کے اسرائیلی دعوے،فرانسیسی میڈیا نے جھوٹ کے پول کھول ڈالے

​تہران/واشنگٹن(جانو ڈاٹ پی کے)اسرائیلی میڈیا نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق تہران میں ایک حملے کے دوران انہیں نشانہ بنایا گیا، تاہم ایرانی میڈیا اور پاسدارانِ انقلاب نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ باقر قالیباف بالکل محفوظ ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کی ثالثی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جن پانچ ایرانی شخصیات کو نشانہ نہ بنانے کی ضمانت دی تھی، قالیباف ان میں شامل ہیں۔

​دوسری جانب، امریکی سینٹ کام نے تصدیق کی ہے کہ ان کا بحری بیڑا ‘یو ایس ایس ٹریپولی’ (USS Tripoli) 3500 میرینز اور سیلرز کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکا ہے۔ یہ پیش رفت باقر قالیباف کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ ایک طرف مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہا ہے اور دوسری طرف زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ایران اپنی سرزمین پر امریکی فوج کے ‘استقبال’ کے لیے مکمل تیار ہے۔

​میدانِ جنگ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایران نے سعودی عرب میں واقع امریکی ‘پرنس سلطان ایئر بیس’ پر ایک انتہائی مہنگے اور اہم اثاثے ‘E-3 Sentry’ (اویکس طیارہ) کو پن پوائنٹ ایکوریسی کے ساتھ تباہ کر دیا ہے۔ 900 ملین ڈالر مالیت کا یہ طیارہ اب ناقابلِ استعمال ہو چکا ہے۔ اس حملے کے بعد امریکہ نے اس ایئر بیس کو بند کر کے اپنے باقی ری فیولنگ ٹینکرز اردن منتقل کر دیے ہیں۔ مزید برآں، ایران نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر امریکی ڈیلٹا فورس کے ایک اہلکار کو دکھایا گیا ہے جو جزیرہ خارک پر قبضے کی کوشش کے دوران گرفتار ہوا تھا۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button