بنگلہ دیشی الیکشن کے نتائج: پاکستان، بھارت اور چین کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا؟

پاکستان بنگلہ تعلقات میں "برف پگھلنا"شروع

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)بنگلادیش میں12فروری2026کو ہونے والے انتخابات اور اس کے نتیجے میں بننے والی نئی حکومت کے اثرات پورے جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان،بھارت اور چین پر گہرے ہوں گے۔

شیخ حسینہ کے دور میں پاکستان اور بنگلادیش کے تعلقات کم ترین سطح پر تھے، لیکن حالیہ مہینوں میں بڑی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔

 تجارتی بحالی:اگر بی این پی (BNP) یا جماعت اسلامی اقتدار میں آتی ہے تو دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست سمندری تجارت اور پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا،جس سے سارک(SAARC) ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔

سیاسی قربت:پاکستان کیلئے بنگلادیش ایک اہم اتحادی بن کر ابھر سکتا ہے،جس سے خطے میں پاکستان کی تنہائی کم ہوگی۔

بھارت کیلئے "سٹراٹیجک دھچکا” اور چیلنجز

بھارت کے لیے بنگلادیش کے یہ انتخابات سب سے زیادہ پریشان کن ہیں۔شیخ حسینہ بھارت کی سب سے قریبی اتحادی تھیں، جنہوں نے بھارت کو ٹرانزٹ اور سیکیورٹی کی سہولیات دے رکھی تھیں۔ نئی حکومت کے آنے سے بھارت کا یہ "VVIP” درجہ ختم ہو سکتا ہے۔

بھارت کو ڈر ہے کہ بنگلادیش کی نئی قیادت اس کی شمال مشرقی ریاستوں(Seven Sisters)میں علیحدگی پسند تحریکوں کے لیے نرم گوشہ نہ رکھے۔

بنگلادیش اب عالمی طاقتوں کی "جیو پولیٹیکل” جنگ کا مرکز بن چکا ہے۔

چین بنگلادیش کی نئی حکومت کو بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں اور قرضوں کے ذریعے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرے گا۔

امریکا نے موجودہ عبوری حکومت اور انتخابی عمل کی حمایت کی ہے، اس لیے وہ خطے میں جمہوریت کے نام پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر بھارت کے غلبے کو متوازن (Balance) کرنا چاہتا ہے۔

سارک(SAARC) کی بحالی کا امکان

گزشتہ ایک دہائی سے بھارت اور پاکستان کے تناؤ اور بنگلادیش کے رویے کی وجہ سے سارک تنظیم تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ اگر بنگلادیش میں ایک ایسی حکومت آتی ہے جو سب کے ساتھ توازن رکھنا چاہتی ہو، تو جنوبی ایشیا کے ممالک کا یہ بلاک دوبارہ فعال ہو سکتا ہے۔

بنگلادیش کی نئی حکومت میانمار کے ساتھ روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے زیادہ سخت موقف اپنا سکتی ہے۔ اس معاملے میں وہ عالمی برادری اور چین سے زیادہ مدد کی توقع رکھے گی، جس سے علاقائی سیاست میں گرمی آئے گی۔

بنگلادیش میں عوامی لیگ کے بغیر ہونے والے یہ انتخابات بھارت کے "مونوپولی” والے دور کا خاتمہ ثابت ہو سکتے ہیں اور پاکستان و چین کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ خطہ اب ایک "ملٹی پولر” (کثیر القطبی) سیاست کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں ڈھاکہ اب صرف نئی دہلی کے اشاروں پر نہیں چلے گا۔

مزید خبریں

Back to top button