جماعت اسلامی بنگلادیش کے رہنما انتخابات میں کامیابی کے بعد حریف امیدوار کے گھر پہنچ گئے، والدہ سے مل کر رو پڑے

ڈھاکہ(جانوڈاٹ پی کے)بنگلادیش کے 13 ویں عام  انتخابات  میں دارالحکومت ڈھاکا کی نشست  سے کامیاب ہونے والے جماعت  اسلامی بنگلادیش کے  رہنما بیرسٹر  احمد بن قاسم ارمان اپنی حریف بی این پی امیدوار کے گھر  پہنچ گئے۔

 بیرسٹر احمد بن قاسم  بی این پی امیدوار سنجیدہ اختر کے گھر پہنچے جہاں جذباتی مناظر  دیکھنے میں آئے۔

 بیرسٹر احمد بن قاسم نے  بی این پی امیدوار سنجیدہ اختر کی والدہ  حاضرہ خاتون سے ملاقات کی اور  ان کےگلے لگ کر رو  پڑے۔

خیال رہے کہ بی این پی امیدوار سنجیدہ اختر کی والدہ حاضرہ خاتون  بنگلادیش میں حسینہ دور حکومت میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم تنظیم مائر داک (ماں کی آواز) کی بانی ہیں جو کہ انہوں نے اپنے بیٹے  ساجد الاسلام ثمن کے لاپتہ ہونے کے بعد قائم کی تھی جنہیں 2013 میں حسینہ انتظامیہ نے اغوا کرلیا تھا اور تاحال ان کا پتہ نہیں چل سکا۔

دوسری  جانب  عام انتخابات میں ڈھاکا کی نشست سےکامیاب ہونے  والے  بیرسٹر احمد بن قاسم  جماعت اسلامی کے سابق رہنما اور کاروباری شخصیت مرحوم میر قاسم علی کے بیٹے ہیں جنہیں 3 ستمبر 2016 کو پھانسی دے دی گئی تھی جب کہ ان کی پھانسی سے تقریباً 3 ہفتے قبل ان کے بیٹے اور وکیل بیرسٹر احمد بن قاسم  کو ان کی رہائش گاہ سے اغوا کرکے لاپتہ کردیا گیا تھا جس کے  8 سال بعدحسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد 7 اگست 2024 کو ان کی رہائی ہوئی تھی۔

اس لیے جب الیکشن میں کامیابی کے بعد  بیرسٹر احمد بن قاسم اپنی حریف امیدوار سنجیدہ اختر کے گھر پہنچے تو ان کی والدہ سے مل کر رو پڑے۔

اہلخانہ کی جانب سے شناخت کے باوجود اغوا کاروں میں سے کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا، ان جیسے  سیکڑوں خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی حالت سے بے خبر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  مائر داک (ماں کی آواز) نے ہمیں احتجاج کرنا سکھایا اور بتایا کہ گھر بیٹھ کر آنسو بہانا کافی نہیں، ہمیں سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔ساجد الاسلام ثمن کی والدہ اور بہن نے ’مائر داک‘ کے ذریعے ہمیں حوصلہ دیا ہے، لاپتہ افراد کی بازیابی کی یہ تحریک جاری رہے گی اور  واقعے میں ملوث افراد چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا، اس کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس خاندان کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر قائم ہے، میں زندگی بھر اس خاندان کا شکر گزار  رہوں گا جس نے میری جبری گمشدگی کے دوران میرے خاندان سے  رابطہ رکھا اور  ان کی رہنمائی کی۔

مزید خبریں

Back to top button