ایران اسرائیل جنگ’’مس کیلکولیشن‘‘یا’’واراکانومی‘‘

لاہور(خصوصی تجزیاتی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)ایران اسرائیل کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جسے مبصرین ‘مس کیلکولیشن’ کے بجائے امریکہ کی ایک انتہائی سوچی سمجھی اور کیلکولیٹڈ موو قرار دے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اپنی وزارتِ دفاع کا نام ‘وزارتِ جنگ’ (War Ministry) رکھنا اس بات کا واضح اعلان تھا کہ عالمی طاقتیں اب بڑے پیمانے پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اس جنگ کا ایک بڑا پہلو ‘وار اکانومی’ ہے، جہاں جدید ترین اسلحے کی فروخت کے ذریعے عالمی معیشت کو سہارا دیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت کی جانب سے روس سے 25 ارب ڈالر کے دفاعی نظام کی خریداری اور خلیجی ریاستوں کا اپنے دفاع کے لیے امریکہ اور یورپ کی طرف دیکھنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
پاکستان اس تمام صورتحال میں ایک انتہائی نازک مگر اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی وزیراعظم کے ٹویٹ کو شیئر کرنا اور ایران کے ساتھ پاکستان کے طویل مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے ایک ‘پُل’ کا کام کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو باور کروایا ہے کہ اگر ایرانی وزیر خارجہ اور سپیکر جیسے اہم رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا تو مذاکرات کے تمام راستے بند ہو جائیں گے۔ دوسری جانب ایران میں ہونی والی تباہی کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں؛ صرف تہران میں 3800 سے زائد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس جنگ کو خالصتاً معاشی یا جغرافیائی کہنا سادہ لوحی ہوگی، کیونکہ اس کے پیچھے گہرے مذہبی نظریات اور تاریخی داستانیں کارفرما ہیں۔ ایک طرف اسرائیل ‘تھرڈ ٹیمپل’ کے نظریے پر عمل پیرا ہے تو دوسری طرف ایران اور اس کے اتحادی (حزب اللہ، انصار اللہ) اسے ایک مقدس جنگ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر 6 اپریل تک کی ڈیڈ لائن میں مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو یہ تنازعہ عالمی جنگ (World War III) کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال خارج از امکان نہیں۔ امریکہ کے لیے اس خطے کو چھوڑنا ممکن نہیں کیونکہ عالمی معیشت کا 20 فیصد تیل اسی شاہراہ (سٹریٹ آف ہارمز) سے گزرتا ہے، اور اس پر سے کنٹرول کھونے کا مطلب ڈالر کی عالمی حاکمیت کا خاتمہ ہوگا۔



