بحرین میں بغاوت ! اسرائیل کا ‘اے آئی’ ڈیتھ ماڈل

​واشنگٹن/تہران(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)​امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تقریر نے دنیا بھر میں کھلبلی مچا دی ہے، جس میں انہوں نے ایران کو سیز فائر نہ کرنے کی صورت میں مکمل تباہی اور ‘پتھر کے دور’ میں دھکیلنے کی دھمکی دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ اس وقت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کیونکہ وہ ایک طرف جنگ جیتنے کے دعوے کر رہے ہیں تو دوسری طرف اتحادیوں سے مدد کی اپیلیں بھی کر رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کا اب اصل ہدف ایران میں ریجیم چینج نہیں بلکہ اسے ‘افغانستان’ بنانا ہے تاکہ اگلے 20 سال تک ایران دوبارہ کھڑا نہ ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے اسرائیل ‘اے آئی ڈیٹا فیکٹری’ نامی جدید ماڈل استعمال کر رہا ہے جس کے ذریعے سویلین انفراسٹرکچر، بجلی کے گھروں اور تیل کی ریفائنریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ایرانی عوام کو گھٹنوں پر لایا جا سکے۔ اسی دوران ایران کے اندرونی حالات بھی دھماکہ خیز ہو گئے ہیں، جہاں سابق وزیر خارجہ کمال خرازی پر قاتلانہ حملے میں ان کی اہلیہ شہید ہو گئیں، جس کے پیچھے اسرائیلی ایجنٹوں کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔

​دوسری جانب خلیجی ریاست بحرین میں شدید عوامی بے چینی اور بغاوت کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جہاں اکثریت ایران کی حامی ہے اور وہاں میزائل حملوں پر جشن منانے والوں کی گرفتاریوں کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہے، تاہم وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق امارات اب اس جنگ سے پیچھا چھڑانے کے لیے بے تاب ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ ایک زخمی اور بپھرا ہوا ایران خطے کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ امریکہ پاکستانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کی گئی اپنی پرانی تیاریوں کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی ریڈیکلائزیشن اور ٹرمپ کی مجبوریاں خطے کو کس ہولناک انجام کی طرف لے جا رہی ہیں، اس کی مکمل اندرونی کہانی جاننے کے لیے توصیف احمد خان کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button