سوشیو اکنامک رجسٹری سروے،اثاثے چھپانے اور اہل افراد کو نااہل ظاہر کرنے کے الزامات سامنے آگئے

بہاولنگر(نمائندہ جانوڈاٹ پی کے)صوبہ پنجاب میں جاری پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری (PSER)سروے، جس کا مقصد مستحق افراد کی درست نشاندہی اور فلاحی اسکیموں کی شفاف تقسیم بتایا جا رہا ہے، اب شدید تنازعات کی زد میں آ چکا ہے۔ شہری و دیہی علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات نے اس سروے کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع اور سروے ٹیم کے بعض ممبران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ جب وہ گھروں میں جاتے تھے تو بڑے مکانات، اندر کھڑی گاڑیاں، ایئر کنڈیشنرز، حتیٰ کہ سولر سسٹمز واضح طور پر موجود ہوتے تھے، مگر مکین اثاثوں کی موجودگی سے انکار کر دیتے تھے۔

گاڑی کے بارے میں سوال کیا جاتا تو جواب ملتا”یہ ہماری نہیں، کسی رشتہ دار کی ہے۔”

متعدد کیسز میں ایک سے زائد اے سی موجود ہونے کے باوجود صرف ایک ظاہر کیا گیا، جبکہ کچھ افراد نے مکمل انکار کر کے صرف کولر درج کروایا۔ گاڑی رکھنے والوں نے خود کو موٹر سائیکل کا مالک ظاہر کیا، جبکہ موٹر سائیکل رکھنے والوں نے خود کو بالکل بے وسیلہ قرار دیا۔

دیہی علاقوں میں بڑے زمیندار، فارم ہاؤس مالکان اور جدید زرعی مشینری رکھنے والے افراد کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے اثاثے صفر ظاہر کروانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ٹریکٹر، تھریشر، قیمتی مویشی، وسیع زرعی اراضی رکھنے والے افراد بھی مستحقین کی فہرست میں شامل ہونے کی کوشش کرتے پائے گئے۔

ضلع بہاولنگر کے ایک موضع ٹکڑا نمبر 1، بستی چوہدریاں سے یہ سنگین دعویٰ سامنے آیا ہے کہ سروے ٹیم کے ایک ممبر نے ہر گھر سے پانچ سو روپے وصول کیے اور ان کو مکمل غریب ظاہر کر دیا تاکہ وہ آئندہ امدادی اسکیموں کے لیے اہل ہو سکیں۔

اگر یہ الزام درست ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف بدعنوانی بلکہ حقیقی مستحقین کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔

چند روز قبل عظمی بخاری نے بیان دیا تھا کہ جلد ہی پورے پنجاب کا مکمل ڈیٹا دستیاب ہوگا، جس میں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، ٹریکٹروں، اے سی، بھینسوں، گایوں اور بکریوں کی تعداد تک سامنے آ جائے گی۔

مگر موجودہ الزامات کی روشنی میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر بنیادی معلومات ہی غلط اندراج پر مبنی ہوں تو کیا اس ڈیٹا پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے سروے میںڈیجیٹل ویری فکیشن،کراس چیکنگ،جیو ٹیگنگ، آزادانہ آڈٹ ناگزیر ہیں۔ بصورت دیگر نتائج متنازع ہو سکتے ہیں اور انہی اعداد و شمار کی بنیاد پر لانچ کی جانے والی اسکیمیں بھی غلط سمت میں جا سکتی ہیں۔

عوامی و سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button