بدین:گورنمنٹ گرلز لوئر سیکنڈری سکول خستہ حالی کا شکار

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)بدین کی سرکاری ملازمین اور افسران کی رہائشی ایگروول کالونی میں گورنمنٹ گرلز لوئر سیکنڈری اسکول خستہ حالی کا شکار تفصیل کے مطابق بدین کی سرکاری ملازمین اور افسران کی رہائشی ایگروول کالونی میں واقع گورنمنٹ گرلز لوئر سیکنڈری اسکول (جی جی ایل ایس ایس) کی عمارت انتہائی خستہ اور غیر محفوظ حالت میں پہنچ چکی ہے، جس پر والدین، اساتذہ اور مقامی مکینوں میں طالبات کی سلامتی اور علاقے میں بچیوں کی تعلیم کے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے یہ اسکول 1997 میں سندھ مڈل اسکول پروجیکٹ کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت سے تعمیر کیا گیا تھا، جس میں نو کلاس رومز شامل ہیں۔ تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے باوجود یہی عمارت بغیر کسی بڑی مرمت، تزئین و آرائش یا توسیع کے استعمال میں ہے وقت گزرنے کے ساتھ عمارت بری طرح خراب ہو چکی ہے۔ دیواروں اور چھتوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں، پلستر جھڑ رہا ہے اور عمارت کے بعض حصے روزمرہ تعلیمی سرگرمیوں کے لیے غیر محفوظ قرار دیے جا رہے ہیں۔ برسات کے موسم میں پانی کے رساؤ سے کلاس رومز کی حالت مزید ابتر ہو جاتی ہے، جس کے باعث طلبہ اور اساتذہ کو غیر آرام دہ اور خطرناک ماحول میں تعلیم جاری رکھنا پڑتی ہے اسکول کے اساتذہ کے مطابق طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم سہولیات میں اس کے مطابق کوئی بہتری نہیں لائی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب انفراسٹرکچر کی کمی اور اسکول کو ہائی اسکول سطح تک اپ گریڈ نہ کیا جانا اُن طالبات کے لیے بڑی رکاوٹ ہے جو لوئر سیکنڈری کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہیں والدین نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ غیر محفوظ عمارت کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سبب بن سکتی ہے، اسی لیے بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کو ایسی درسگاہ میں بھیجنے سے ہچکچا رہے ہیں جہاں
گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ایگروول کالونی کے کلسٹر ہیڈ، مسٹر انور علی قمبرا نی نے بھی گرلز اسکول کی حالت پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق عمارت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور فوری طور پر ازسرِنو تعمیر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اسکول پورے کلسٹر کے لیے ایک اہم تعلیمی مرکز ہے، جس میں اردگرد کے دو درجن سے زائد اسکول شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچیوں کی تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے اور کلسٹر کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جی جی ایل ایس ایس ایگروول کالونی کو ہائی اسکول سطح تک اپ گریڈ کرنا ناگزیر ہے۔
مقامی ماہرینِ تعلیم اور کمیونٹی کے افراد نے سندھ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ خستہ حال عمارت کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے اور اسکول کو ہائی اسکول کا درجہ دیا جائے تاکہ ایگروول کالونی اور قریبی علاقوں کی بچیاں بلا تعطل اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ان کا کہنا تھا کہ بروقت اقدامات سے نہ صرف طلبہ اور عملے کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے گی۔



