بدین شہرپر قبضہ مافیا کا راج،رشوت خوری نے زندگی اجیرن بنادی

رشوت لے کر شہر بھر میں تجاوزات قائم کرادی گئیں،اہم شخصیات نے فرنٹ مین رکھ لئے

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)میونسپل کمیٹی بدین کی جانب سے بھتہ خوری کے عوض شہر میں  تجاوزات اور پتھیاروں کی بھرمار،غیر قانونی پارکنگ کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

بدین شہر کے تمام اہم روڈز کے دونوں اطراف اسکولوں نجی اسپتالوں کے دروازوں دیواروں پر اور شہر کے گندے پانی کے نکاسی کے نالوں نالیوں پر غیر قانونی تجاوزات اور پتھیاروں کی بھرمار چوراہوں نجی اسکولوں اور ہسپتالوں کے باہر غیر قانونی پارکنگ نے شہری کاروباری زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

بدین شہر کی اہم شاہراہوں قائداعظم روڈ شاہ لطیف بدین پریس کلب روڈ شہباز روڈ کینٹ روڈ شاہ نواز چوک تا ڈی سی چوک تا نئوں میرواہ نہر پل گولاڑچی بدین مین روڈ تک اور سیرانی روڈ کڈھن روڈ کھوسکی روڈ کے علاوہ بدین شہر کے مرکز اور وسط میں واقع قاضیہ واہ نہر کے پل کے اطراف ، شاہ نواز چوک اور مہران چوک ، فروٹ چوک اور حیدرآباد بدین بس اور وین اڈے کے اطراف قائم غیر قانونی تجاوزات دکانداروں کی جانب سے دکانوں کی حدود سے چار سے چھ فٹ باہر رکھا سامان پتھاروں اور کھڑے ٹھیلوں اور نجی ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے علاوہ روڈ رستوں پہ قائم غیر قانونی پارکنگ اور چنگچی رکشہ اڈوں اور ڈی سی چوک سمیت کڈھن کھوسکی سیرانی روڈوں پر رشوت کے عوض قائم لاری اڈوں کی وجہ سے شہر بھر میں جگہ جگہ کئی گھنٹوں تک روڈ بلاک اور ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا۔

شہریوں اور خاص طور پر اسکول و کالجز آ نے جانے والے طلباء طالبات اور فیمیل اساتذہ کو پیدل آ مدرفت میں بھی سخت پريشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔شہریوں کے مطابق شہر میں ناجائز تجاوزات پتھارے غیر قانونی پارکنگ ون وے ٹریفک کا نظام نہ ہونے کے برابر کے باعث روز بروز مسائل میں اضافہ اور مشکلاتیں بڑھ رہی ہیں،مین روڈ وں پر ٹریفک اکثر بلاک رہتی ہے جس کے باعث چنگچی اور رکشہ موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں نے نے شہر کے رہائشی محلوں کی گلیوں کو بھی ٹریفک کی آ مدرفت کے راستے بنادیئے ہیں جس نے شہریوں کی زندگی مزید اجیرن بنادی ہیں۔

شہر کی گلیوں میں بڑھتی ٹریفک کے باعث گلیوں میں کھیل کود میں مصروف بچی بچیاں آ ئیے دن حادثات کا شکار ہونا معمول بن چکا ہے جس کے باعث خواتین اور بچے گھروں میں محسور ہوکر رہ گئے ہیں،حال ہی میں ڈی سی آفیس کے دربار ھال میں ڈی سی بدین یاسر بھٹی نے صحافیوں کا خصوصی اجلاس طلب کیا تھا جس میں مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔ڈی سی یاسر بھٹی نے اجلاس میں موجود اسسٹنٹ کمشنر بدین کو ناجائز تجاوزات پتھارے ختم کرانے کا حکم دیا جس پر اسسٹنٹ کمشنر بدین اپنے عملے سمیت شہر کا گشت کیا اور میونسپل کمیٹی بدین کے انکروچمنٹ عملے کو طلب کیا لیکن میونسپل کمیٹی کے ذرائع کے مطابق میونسپل عملے کو اسسٹنٹ کمشنر کے احکامات پر عمل کرنے سے روک دیا گیا اور اسسٹنٹ کمشنر صرف ایک پی جی گیس کے ان دکانداروں کو کے ناجائز تجاوزات کے زمرے میں آ طے ہی نہیں ان کو اپنی دکانیں شہری آ بادی سے باہر منتقل ہونے کی تنبیہ کرکے چلے گئے جس پر شہریوں اور صحافیوں نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے کی تحقیق کرنے پر میونسپل کمیٹی بدین کے ہی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کے میونسپل کمیٹی کا نظام دو ایسے افراد کے حوالے کیئے گئے ہیں جو نامنتخب کونسلر ہیں اورنہ ہی میونسپل کے ملازم ہیں وہ چیئرمین میونسپل کے نجی فرنٹ مین ہیں اور پوری کاؤنسل کے سیاح وسفید کے مالک ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کے میونسپل بدین کے عملے کو بھی یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کے وہ ان کی افراد کے حکم کو بجا آ ور لائیں گے،ذرائع نے بتایا کے میونسپل کمیٹی بدین کے وائیس چیئرمین اور کونسلرزکو بھی دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔

ڈی سی بدین کے ناجائز تجاوزات اور پتھیاروں کے خاتمے اور نالوں سے قبضے ختم کرانے کے احکامات کے باوجود میونسپل عملے کی جانب سے عمل نہ کرنے کے سوال پر میونسپل کمیٹی بدین کے ایک ذمے دار اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کے میونسپل کا نظام چلانے والے نجی افراد اور ایک مخصوص جماعت سے تعلق رکھنے والے تعینات اہلکاروں نے بدین شہر کے تمام روڈوں گلیوں چوکوں نجی و سرکاری اسکولوں اسپتالوں بلاول بھٹو پارک بینظیر بھٹو پارک کے دروں دیواروں نکاسی آب کے نالوں نالیوں پر اور ان کے اطراف میں ناجائز تجاوزات پتھیاروں پر فی فٹ کے حساب سے روشناس اور ماہانہ بھتہ وصول کیا جاتا ہے جس کے لیئے انہونے دہاڑی پر اپنے لوگ بھرتی کیئے ہوئے ہیں۔

انہونے یہ بھی انکشاف کیا ہے کے بدین میونسپل کمیٹی کے صفائی کے عملے کے ہوتے ہوئے بھی ان سے کام لینے کے بجائے ان کی جگہ پر کئی اپنے من پسند لوگ غیر قانونی بھرتی کئے گئے ہیں جن کو صرف تنخواہیں دی جاتی ہیں۔

فرنٹ مینوں نے پورے شہر کی سڑکوں اور بازاروں پر اپنا قبضہ جمالیا

ان فرنٹ مینوں نے پورے شہر کی سڑکوں اور بازاروں چوکوں اور نالوں نالیوں پر اپنا قبضہ جمایا ہو ا ہے لیکن ان کے خلاف ڈی سی بدین سمیت متعلقہ حکام کی جانب سے قانونی کارروائی نہیں کی جاتی بلکہ وائس چیئرمین سمیت منتخب اور نامزد کونسلر زنے بھی مکمل خاموشی اختیار کرکے اپنی ذمہ داریوں سے غیر اعلانیہ دستبرداری اختیار کی ہوئی ہے۔

وائیس چیئرمین اور میونسپل کونسلر ز سے رابطے کرنے پر اپنا مؤقف دینے سے معذرت کی ایک کونسلر نے اپنانام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم نے اپنی پارٹی قیادت کو تمام معلومات ثبوتوں سمیت فراہم کردی ہیں اور پارٹی قیادت کی جانب سے ایک اہم این اے ایک اہم پی اے اور پارٹی کے ضلعی عہدیدار پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے میونسپل پہنچ کر تمام کونسلرز کے بیان رکارڈ کیئے اور ہم نے ثبوت فراہم کیئے ہیں لیکن ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے اس نے یہ بھی بتایا ہے کے 3سال مکمل ہونے کو ہیں کونسل کے اجلاس نہیں ہوتے ہیں،کونسل کی منظوری کے بغیر کونسلرز کو اعتماد میں لیئے بغیر باہر کے ذاتی افراد کو میونسپل کمیٹی بدین پر مسلط کردیے گئے ہیں جنہونے بدین شہر کے مختلف علاقوں میں فٹ پاتھ اور سڑکوں پر ہینگر اور مچھلی مافیا،چپس، برگر اور دیگر سٹالز چھتوں کے عوض لگانے کی اجازت دے دی ہے۔شہریوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button