بدین: کیلاش کولہی کے قاتل کی گرفتاری کیلئے احتجاجی دھرنا،سماجی و سیاسی رہنما بھی شریک،انتظامیہ کو ایک ہفتے کی مہلت

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)کیلاش کولہی کے قاتل کی گرفتاری کے لیے کل دوسرے دن بھی بدین کے پیر چوک پر ہزاروں خواتین، مردوں اور بچوں کا احتجاجی دھرنا جاری رہا۔ دھرنے میں سندھ کے کونے کونے سے سیاسی و سماجی رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ سندھ دوست اتحاد کے سربراہ ڈاکٹر عزیز میمن، عوامی تحریک کے رہنما ستار رند، ایس یو پی کے رہنما امیر آزاد پنہور، مرزا گروپ کے رہنما واحد چانڈیو، حیدرآباد سے ایل جَسقم کے رہنما بشیر ملاح، قومی عوامی تحریک کے عبداللہ چانڈیو، تحریک انصاف کے عزیز دیرو اور دیگر رہنماؤں نے ہزاروں افراد کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیلاش کولہی کے قاتل سرفراز نظامانی کو پانچ دن گزرنے کے باوجود گرفتار نہ کرنا انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کی نشانی ہے۔ پولیس کے پاس اتنے وسائل ہونے کے باوجود ملزم کا گرفتار نہ ہونا شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ سیاسی مخالفین کو کہیں سے بھی اٹھا لیا جاتا ہے لیکن قتل کا ملزم گرفتار نہیں ہو رہا اس موقع پر کیلاش کولہی جدوجہد کمیٹی کے رہنماؤں سے ڈی آئی جی حیدرآباد، ایس ایس پی بدین اور ڈپٹی کمشنر بدین کی مسلسل رابطوں اور مذاکرات کے بعد کمیٹی کے رہنما پھلاج کولہی اسٹیج پر آئے اور انتظامیہ سے ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ 12 رکنی جدوجہد کمیٹی کے رہنماؤں نے مشاورت کے بعد انتظامیہ کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کہ وہ قاتل کو گرفتار کر کے عدالت کے کٹہرے میں پیش کرے، بصورت دیگر ایک ہفتے بعد ڈی سی چوک بدین پر کیلاش کولہی کے قاتل سرفراز نظامانی کی گرفتاری کے لیے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا جائے گا دھرنے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے جدوجہد میں ساتھ دینے والے تمام سیاسی و سماجی رہنماؤں، کارکنوں، ہاریوں اور مزدوروں کا شکریہ ادا کیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ کیلاش کولہی کے قاتل کی گرفتاری کے لیے اسی جذبے کے ساتھ کمیٹی کی جدوجہد میں تعاون اور حمایت جاری رکھی جائے گی۔ اس موقع پر دو دن سے پولیس کی بھاری نفری دھرنے کے مقام پر موجود رہی جبکہ سارا دن دھرنا ختم کرانے کے لیے پولیس کارروائی کی افواہیں گردش کرتی رہیں۔ بدین بار ایسوسی ایشن کی جانب سے کیلاش کولہی کے قاتل کی گرفتاری کے لیے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ دھرنے کے مقام پر خواتین بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔

مزید خبریں

Back to top button