سرکاری بھرتیوں پر سوالات،ایاز لطیف پلیجو نے بڑا دعویٰ کر دیا

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)

قومی عوامی تحریک ٹنڈو باگو کی جانب سے پانی پر ڈاکہ، کرپشن، کارپوریٹ فارمنگ، بدامنی و لاقانونیت، میرٹ کی پامالی، وسائل کی لوٹ مار، غیرقانونی طور پر مقیم افغانیوں سمیت غیر ملکیوں کی آبادکاری، سندھ کی وحدت پر حملوں اور 26ویں و 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کی قیادت میں ہزاروں افراد نے بدین۔پنگریو روڈ سے “محبتِ سندھ” پیدل مارچ کیا، جو شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا بدر چوک ٹنڈو باگو میں جلسۂ عام میں تبدیل ہوگیا

پیدل مارچ کے شرکاء کا شہریوں نے جگہ جگہ پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے شاندار استقبال کیا، جبکہ ایاز لطیف پلیجو کو شہریوں اور تاجروں کی جانب سے اجرکیں اور لنگھیاں تحفے میں دی گئیں

جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ پیپلز پارٹی کے کسی ایم پی اے یا ایم این اے کو آکر یہ دعویٰ کرنا چاہیے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن میں نوکریاں پیسوں پر نہیں بکتیں۔ انہوں نے چیلنج دیا کہ جو ایک سو سے زائد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں انہیں میرے ساتھ بٹھایا جائے اور ہم لائیو گفتگو کریں، میں ان سے بیس سوال پوچھوں گا۔ پھر وہ طلبہ بٹھائے جائیں جنہیں آپ نے فیل کیا ہے اور ان سے بھی وہی بیس سوال پوچھے جائیں۔ جو امیدوار 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے دے کر پاس ہوئے ہیں، کیا وہ ان سوالوں کے جواب دے سکیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ نوکریاں اور تبادلے پیسوں پر بیچے جا رہے ہیں ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کو ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے، ہم خود کو گاڑی پر رکھے مال کی طرح بیچ رہے ہیں۔ ان کے خلاف احتجاج کریں اور مقابلہ کریں، پیپلز پارٹی نے پورے سندھ کو بیچ دیا ہے۔ وطن، وسائل اور روزگار سب فروخت ہوچکے ہیں، یہ فروخت شدہ مال آٹھ کروڑ سندھ کے لوگوں کو واپس لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف سندھ کے عوام کو نکلنا ہوگا۔ نوجوان اگر صرف پڑھائی اور روزگار تک محدود ہوکر سیاست سے لاتعلق ہوگیا تو وسائل، روزگار، میرٹ، وطن، دریا اور زمینیں نہیں بچ سکیں گی۔ تعلیم وقتی طور پر فرد کو سنوارتی ہے، مگر روزگار میں حصہ تب ملتا ہے جب سیاست مضبوط ہو۔ جب سیاست کمزور ہوتی ہے تو سندھ پبلک سروس کمیشن نوکریاں بیچ دیتا ہے، لیکن اگر سیاست مضبوط ہو اور نوجوان سیاست سے جڑے ہوں تو کوئی چیئرمین یا وزیر نوکریاں بیچنے کی جرأت نہیں کرسکتا انہو نے کہا کہ صوبوں کو حاصل محدود خودمختاری اور وسائل واپس اسلام آباد کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ آئین میں غیر جمہوری اور آمرانہ ترامیم کو مسترد کرتے ہیں۔ شہباز شریف اور آصف زرداری کی سرپرستی میں یہ مہم جوئی جاری ہے۔ وفاق اور سندھ کے حکمران وقتی مفادات کے لیے فیڈریشن کو نقصان پہنچانا بند کریں۔ حکمران عوام میں تقسیم اور ٹکراؤ پیدا کرکے اصل مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ طویل ساحلی پٹی رکھنے والے اضلاع بدین، ٹھٹھہ اور سجاول بھوک اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ سندھ کے پانی، زمینوں اور وسائل پر قبضہ برداشت نہیں کریں گے۔ مفاد پرست حکمرانوں نے سندھ کو جرائم اور قبائلیت کے حوالے کردیا ہے۔ ججوں کا ٹکراؤ عدالتی نظام اور ملکی مفاد میں نہیں۔ سندھ حکومت عوام کو بے دردی سے لوٹ رہی ہے، روزانہ بچیوں اور نوجوانوں کے قتل ہو رہے ہیں مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ روزگار کے مواقع چھین لیے گئے ہیں، نوجوان بے روزگاری کی آگ میں جل رہے ہیں اور زراعت کو دانستہ تباہ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ منشیات سرعام فروخت ہو رہی ہیں جس سے نوجوان نسل تباہی کی طرف دھکیلی جا رہی ہے۔ انہوں نے مراد علی شاہ، بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سمیت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سے سوال کیا کہ سندھ بھر میں گٹکا، آئس، مین پوری اور دیگر نشہ آور اشیاء کی فیکٹریاں کون چلا رہا ہے؟ ان کے اسپانسر کون ہیں؟ کیوں کسی ایس پی یا ڈی ایس پی میں یہ جرأت نہیں کہ یہ کاروبار بند کرائے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض ایم این ایز، ایم پی ایز اور وزراء ان کاروباروں کے سرپرست ہیں اور ایس ایس پیز کو ماہانہ بھتہ ملتا ہے ایاز لطیف پلیجو نے چیلنج دیا کہ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے سامنے آکر اعلان کرے کہ اس کے ضلع میں گٹکا، مین پوری، آئس یا شراب نہیں چل رہی۔ انہوں نے کہا کہ پورے سندھ کو منشیات کا گڑھ بنا دیا گیا ہے۔ بالائی سندھ کو سرداری نظام، جرائم اور وڈیرہ شاہی کا مرکز بنایا گیا ہے، میرٹ کی بحالی اور کرپشن کے خاتمے کی ضرورت ہے، دیہی علاقوں میں خواتین اور بچیاں غیر محفوظ ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاق، پارلیمنٹ اور عدلیہ سندھ کے عوام کی شکایات سنیں اور ان کا ازالہ کریں۔ مسائل کا حل عدالتی ٹکراؤ نہیں بلکہ منصفانہ، روادار اور جمہوری فیڈریشن ہے۔ سندھ ایک تاریخی وطن ہے، جغرافیائی سرحدوں سے چھیڑ چھاڑ بند کی جائے۔ بدین کے عوام کے لیے پینے اور زراعت کے پانی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا جائے۔ پاکستان کو نئے معاشی، آئینی اور سماجی چارٹر کی ضرورت ہے

ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کو گورنرز کے ذریعے یونٹس اور ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی بات دراصل پاکستان کو توڑنے کی سازش ہے، اس پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے، ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت بھی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کسی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا، ہمارے آبا و اجداد نے ہزاروں سال جدوجہد اور قربانیاں دی ہیں انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں جناح پور کے منصوبے کے خلاف انہوں نے کراچی میں ہزاروں کے قافلے کے ساتھ جدوجہد کی اور بالآخر اس سازش کو دفن کیا۔ لندن میں آل پارٹیز کانفرنس میں شہید بے نظیر بھٹو، نواز شریف، اسفندیار ولی، عمران خان، قاضی حسین احمد سمیت تمام وفاقی و قوم پرست جماعتوں سے یہ اعلان کروایا گیا کہ سندھ کو تقسیم کرنے والی دہشت گرد جماعت ایم کیو ایم سے کوئی اتحاد نہیں ہوگا انہوں نے الزام لگایا کہ وفاقی حکومت دوبارہ ایم کیو ایم کو مضبوط کرکے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو سندھ سے کراچی کو جدا کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے دوٹوک اعلان کیا کہ ہم خون بہا دیں گے مگر کراچی نہیں دیں گے، کیونکہ کراچی سندھ کی روح ہے۔ سندھ کی جغرافیائی حدود سے چھیڑ چھاڑ بند کی جائے جلسے سے قومی عوامی تحریک کے رہنماؤں عبداللہ چانڈیو، سانول گوپانگ، گل حسن چانڈیو، ابراہیم بلیڈی، حسین درس، ستار کھوسو، گیان چند مہیشوری، یوسف لاشاری، عرفان رستمائی، آصف ٹالپر اور سندھیاڻي تحریک کی رہنما شازیہ احمدانی، بختاور جمالی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مزید خبریں

Back to top button