دریائے سندھ میں شدید آبی بحران، وارہ بندی نافذ،زیریں سندھ کی زرعی زمینیں اور ڈیلٹا خطرے میں

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)دریائے سندھ میں جاری شدید آبی بحران کے باعث کوٹری بیراج پر پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں زیریں سندھ کے اضلاع بدین اور ٹنڈو محمد خان کو سیراب کرنے والی اہم پیرنل نہر اکرم واہ سمیت دیگر نہری نظام میں وارہ بندی نظام نافذکردیاگیاہے محکمہ آبپاشی کے جاری کردہ روٹیشن پروگرام کے مطابق پانی کی شدید قلت کے پیش نظر اکرم واہ سسٹم کی مختلف سب ڈویژنز میں باری باری نہریں بند اور کھولی جائیں گی، جبکہ پینے کے پانی کو اولین ترجیح دی گئی ہے اور زرعی مقاصد کے لیے پانی کی فراہمی دوسرے درجے پر رکھ دی گئی ہے۔محکمہ آبپاشی کے حکام کے مطابق کوٹری بیراج کے ڈاؤن اسٹریم میں پانی کی فراہمی صفر تک پہنچ چکی ہے، جس سے دریائے سندھ کے آخری حصے انڈس ڈیلٹا کو سنگین ماحولیاتی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹھے پانی کی عدم دستیابی کے باعث سمندر کی پیش قدمی میں تیزی آئی ہے اور کھارا پانی ڈیلٹائی اضلاع بدین، سجاول اور ٹھٹہ کی زرعی زمینوں تک داخل ہورہا ہے، جس سے ہزاروں ایکڑ اراضی سمندر برد ہوچکی ہے جبکہ مزید علاقے خطرے کی زد میں ہیں۔ایکسیئن اکرم واہ ڈویژن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پانی کی دستیابی میں بہتری آنے کی صورت میں روٹیشن پروگرام پر نظرثانی کی جاسکتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں نہروں کی بندش ناگزیر قرار دی گئی ہے۔ حکام نے آبپاشی عملے کو ہدایت کی ہے کہ پانی کی چوری اور غیر قانونی نکاسی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جاسکے۔ٹیل کے علاقوں کے آبادگاروں اور کسانوں نے بتایا کہ نہروں میں پانی نہ ہونے کے باعث گندم، کپاس اور سبزیوں کی کاشت شدید متاثر ہورہی ہے جبکہ باغات بھی سوکھنے لگے ہیں۔ کسان تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر زیریں سندھ کے حصے کا پانی فراہم نہ کیا گیا تو خوراک کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے، جس کے اثرات صوبائی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔دوسری جانب ماہرین ماحولیات نے انڈس ڈیلٹا میں مینگرووز کے جنگلات کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میٹھے پانی کی مسلسل کمی کے باعث مینگرووز تیزی سے تباہ ہورہے ہیں، جس سے نہ صرف سمندری طوفانوں کے خلاف قدرتی حفاظتی دیوار کمزور پڑ رہی ہے بلکہ آبی حیات کی افزائش بھی متاثر ہورہی ہے۔ مچھلیوں اور جھینگوں کی پیداوار میں کمی کے باعث ماہی گیروں کا روزگار خطرے میں پڑ چکا ہے اور ساحلی پٹی کے ہزاروں خاندان معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ماہی گیر نمائندوں نے بتایا کہ کھارے پانی کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ نے مچھلیوں کی اقسام کو محدود کردیا ہے اور شکار میں واضح کمی آئی ہے، جس سے ساحلی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔آبی و ماحولیاتی ماہرین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ کوٹری بیراج کے نیچے کم از کم ماحولیاتی ضرورت کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ڈیلٹا کی بقا، زرعی زمینوں کا تحفظ اور ساحلی آبادیوں کو سمندری کٹاؤ سے بچایا جاسکے۔ سماجی و سیاسی حلقوں نے بھی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آبی وسائل کے منصفانہ اور شفاف انتظام کے ذریعے زیریں سندھ کو اس کے حصے کا پانی فوری فراہم کیا جائے، بصورت دیگر یہ بحران طویل المدتی ماحولیاتی تباہی اور معاشی بدحالی میں تبدیل ہوسکتا ہے

مزید خبریں

Back to top button