ایران کی ڈانسنگ کوئین کا جادو: میک 18 کی رفتار سے ہائپر سونک میزائلوں کا حملہ

تہران/بیجنگ/واشنگٹن: عسکری میدان میں ایران نے ایک بار پھر دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے جہاں نصراللہ میزائل ڈیفنس سسٹم کے ذریعے ایف 35 طیاروں کے شکار کے بعد اب امریکی فضائیہ کا سب سے مہنگا اور طاقتور بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیارہ ایرانی نشانے پر آ گیا ہے اور چین کی ایک نجی دفاعی کمپنی جنگن ٹیکنالوجی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم زینگچی نے ایران پر حملے کے بعد واپس لوٹنے والے چار امریکی بی ٹو طیاروں کے ریڈیو سگنلز اور کال سائنز کو کامیابی سے ٹریس کر لیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب دنیا کی مہنگی ترین اسٹیلتھ ٹیکنالوجی بھی چینی اور ایرانی ریڈارز سے نہیں چھپ سکے گی جبکہ ماہرین کے مطابق اگر ایران اپنے نصراللہ یا باور 373 سسٹم کو چینی یو ایچ ایف ریڈار ڈیٹا کے ساتھ منسلک کر دے تو دو ارب ڈالر مالیت کے ان طیاروں کو گرانا اب ناممکن نہیں رہا۔ دوسری جانب ایران نے اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیوں میں ڈانسنگ کوئین کہلانے والے جدید ترین ہائپر سونک گلائیڈ وہیکل میزائلوں کا استعمال شروع کر دیا ہے جو آواز کی رفتار سے 18 گنا زیادہ یعنی میک 18 کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور یہ میزائل محض 4 منٹ میں ایران سے تل ابیب پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن کی سب سے خاص بات ان کا سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا ڈانسنگ انداز ہے جو کسی بھی دفاعی نظام بشمول آئرن ڈوم اور پیٹریاٹ کے لیے انہیں انٹرسیپٹ کرنا ناممکن بنا دیتا ہے کیونکہ یہ میزائل نہ صرف اپنا رخ بدلتے ہیں بلکہ فضا میں آتش بازی نما شعلے بھی چھوڑتے ہیں تاکہ دشمن کا ڈیفنس سسٹم دھوکہ کھا جائے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانیوں کو ایک ذہین اور جنگجو قوم قرار دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ تمام تر امریکی طاقت کے باوجود ایران کو جھکانے میں اب تک مکمل ناکامی ہوئی ہے۔
مکمل سنسنی خیز تفصیلات جاننے کے لیے معظم فخر کا یہ وی لاگ اس لنک پر ملاحظہ کریں:




