بدین میں قدرتی وسائل کے باوجود خوشحالی نہیں،ایاز لطیف پلیجو

بدین (رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)بدین ضلع کے شہر کڑیو گھنور میں ہاری تحریک کی مرکزی ہاری کانفرنس اور یومِ فاضل کے موقع پر جلسۂ عام منعقد ہوا، جس میں قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ صدارت ہاری تحریک کے نو منتخب صدر کامریڈ کرڑ ریباری نے کی۔ کانفرنس میں ایڈووکیٹ مظہر راہوجو، گیان چند مہیشوری، انور نوحاڻي، پنھل سولنگی، امام علی شاہ، سانول گوپانگ، حسین درس، الطاف خاصخیلی، شوکت نوحاڻي، محمود رخشاڻي، شازیہ احمدانی، سونھن گوپانگ، بابو نوحاڻي اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی.کڑیو گھنور پہنچنے پر شہریوں، تاجروں، ہاریوں اور آبادگاروں سمیت ہزاروں افراد نے ایاز لطیف پلیجو کا پھولوں کی بارش سے شاندار استقبال کیا، جس کے بعد انہیں الرحمن ہال لے جایا گیا جہاں جلسۂ عام منعقد ہوا۔
ایاز لطیف پلیجو نے ہاری کانفرنس میں ہاری تحریک کے عہدیداران سے حلف لیا، جن میں صدر کرڑ ریباری، سینئر نائب صدر حبیب اللہ پلیجو، نائب صدر اسماعیل مہیری، نائب صدر گل حسن برہمانی، جنرل سیکریٹری عبداللہ چانڈیو، ڈپٹی جنرل سیکریٹری یوسف لاشاری، جوائنٹ سیکریٹری جلال بجیر، رابطہ سیکریٹری کمال شر، خزانچی نواب اللہ داہری، پریس سیکریٹری رازو مل کولہی شامل تھے۔ جبکہ اراکین میں سرور گاجانی، کامریڈ غلام حسین سولنگی، نادر لغاری، شوجی کولہی، گوردھن میگھواڑ، حضور بخش داہری، صدیق اوٹھو، اسد بودھ اور رمضان رند شامل ہیں.
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ دنیا کے جن علاقوں میں سمندر، تیل اور گیس موجود ہوتی ہے وہاں کے عوام خوشحال ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ بدین ضلع کے پاس سمندر اور بے شمار قدرتی وسائل ہونے کے باوجود یہاں کے لوگ بھوک، بدحالی، بے روزگاری اور کربناک زندگی گزار رہے ہیں۔ اصل طاقت ہاری، مزدور اور محنت کش عوام ہیں۔ سندھی عوام مصلحت کے تحت خاموش بیٹھنے اور دوسروں کے اٹھنے کا انتظار کرنے کے بجائے اپنا کردار ادا کریں، ناانصافی برداشت نہ کریں اور حق و سچ کی آواز بلند کریں۔ حکمران کمزور ہیں، عوام کی خاموشی کرپٹ حکمرانوں کو طاقتور بناتی ہے انہونے کہا کہ شہید فاضل راہو سندھ کی توانا آواز تھے، ان کی جدوجہد انہیں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ شہید فاضل راہو سندھ اور مظلوم عوام کی امید اور حوصلہ تھے۔ قومی عوامی تحریک ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پانی، دریاؤں پر ڈاکے، مظلوم عوام پر ظلم اور سندھ کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ فاضل راہو نے ہمیشہ مظلوموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کا درس دیا اور ہر سیاہ رات کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی زندگی گزاری یااز لطیف پلیجو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی مسلسل چوتھی حکومت نے سندھ کو المیوں کی سرزمین بنا دیا ہے۔ آئے دن ایسے درندگی کے واقعات پیش آتے ہیں کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ سندھ کو قتل گاہ بنا دیا گیا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتظامی اور ترقیاتی منصوبوں کا مقابلہ ہے جبکہ سندھ میں کرپشن، جرائم، اغوا، ڈکیتی اور عوام کو فقیر بنانے کا مقابلہ جاری ہے۔ پیپلز پارٹی کی اٹھارہ سالہ حکمرانی نے سندھ کے تمام اداروں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ کرپشن کے نئے نئے طریقے ایجاد کر کے سندھ کو تباہ کیا گیا ہے۔ کرپشن انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے، سرکاری اسپتالوں میں معیاری علاج موجود نہیں۔ سندھ کو کرپشن کی کالونی بنا دیا گیا ہے، ادارے تباہ کیے جا رہے ہیں اور سفارش و رشوت کو کلچر بنا دیا گیا ہے انہو نے کہا کہ تمام صوبوں کو جوڑے رکھنے کا ذریعہ آئین، عدلیہ، پارلیمنٹ اور دریائے سندھ ہیں۔ سندھ سمیت پورے ملک میں گورننس اور آئین کی بالادستی کا بحران ہے۔ سندھ سے منتخب ہونے والی جماعتوں نے عوام کو مایوس کیا ہے، انہیں خود احتسابی کرنی چاہیے۔ مسائل کا حل پابندیوں، جیلوں اور تصادم میں نہیں بلکہ منصفانہ اور جمہوری وفاق میں ہے۔ سندھ کی بقا اور مستقبل کا دارومدار دریائے سندھ پر ہے۔ حکمرانوں کے لیے اب عوام، روزگار، زراعت اور پانی اہم نہیں رہے
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ اگر آئین کو نقصان پہنچا تو پاکستان کے پچیس کروڑ عوام کو نقصان ہوگا۔ سندھ کو لینڈ مافیا اور قبضہ گروپوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حکومت اقتدار کی خاطر عوام کے حقوق سے دستبردار ہو چکی ہے۔ گرین پاکستان کے نام پر سندھ کی زمینوں اور پانی پر قبضے بند کیے جائیں۔ ملک میں عوام کی حقیقی نمائندگی کرنے والی اسمبلیاں موجود نہیں، موجودہ پارلیمنٹ میں عوامی مینڈیٹ شامل نہیں۔ جو حکومت عوام سے نوالہ چھین لے وہ کیسی گورننس دے گی؟ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ اور صحافت کو پیکا کے تحت ختم کیا گیا ہے۔ سندھ میں ظلم و زیادتی جاری ہے، انتخابات چوری کیے گئے ہیں۔ ملک سختی سے نہیں بلکہ شفاف انتخابات اور انصاف سے ترقی کرے گا انہو نے مطالبہ کیا کہ بدین میں میڈیکل، انجینئرنگ، زرعی اور آئی ٹی جامعات قائم کی جائیں، بدین کی تیل کمپنیوں میں مقامی لوگوں کو روزگار دیا جائے۔ بدین پورے سندھ میں تیل پیدا کرنے والا ضلع ہے مگر اس کی رائلٹی حکمران لے جاتے ہیں۔ بدین کبھی شوگر اسٹیٹ تھا، پانی بند کر کے اور فصلوں کے نرخ گرا کر آبادگاروں کا معاشی قتل کیا گیا ہے۔ بدین سمیت سندھ پر مصنوعی غربت مسلط کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پیپلز پارٹی اقتدار میں رہے گی، سندھ کے عوام اس سے بہتری کی امید نہ رکھیں۔ سندھ کے عوام کرپٹ مافیا کے نرغے میں ہیں۔ کرپشن نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کرپٹ عناصر کے کنٹرول میں ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے فروخت کیے جاتے ہیں اور ناقص کام کے ذریعے اربوں روپے کی کرپشن کی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں سندھ اور ملک کیسے ترقی کریں گے؟ میرٹ، قانون اور آئین کو پامال کیا جا رہا ہے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اقتدار کی مصلحت کے تحت اٹھارہ سال سے سندھ کو کرپشن کی کالونی بنا رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی کو سندھ لوٹنے کے لیے دیا گیا ہے اور اس کے بدلے وفاق سندھ کے وسائل پر ڈاکے ڈال رہا ہے۔ سندھ کو کرپشن، ڈاکو کلچر، قبائلی دہشت گردی، منشیات، لاقانونیت، جہالت، سرداری، جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی نظام نے تباہ کر دیا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی چاہتی تو سندھ میں قانون اور انصاف کی حکمرانی قائم ہو سکتی تھی، مگر افسوس کہ اٹھارہ سالہ اقتدار میں سندھ کا برا حال کر دیا گیا۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ سندھی عوام خوشحال ہونے کے بجائے ان کے غلام بنیں۔ انہوں نے کہا کہ سات کروڑ سندھی پیپلز پارٹی سے امید رکھنے کے بجائے سندھ حکومت کی بدحکمرانی کے خلاف جدوجہد تیز کریں
ہاری تحریک کے مرکزی صدر کامریڈ کرڑ ریباری نے کہا کہ سندھ کی زراعت کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا ہے۔ پانی کی قلت، جعلی بیج، کھاد اور زرعی ادویات نے آبادگاروں کو کنگال کر دیا ہے۔ سود خور مافیا نے ہاریوں اور آبادگاروں کو نچوڑ لیا ہے۔ آبادگاروں کو تین سال کے لیے بیج، کھاد اور زرعی ادویات مفت دی جائیں۔ سیلاب، بارشوں اور فصلوں کے نرخ نہ بڑھنے کی وجہ سے ہاریوں اور آبادگاروں کا معاشی قتل ہوا ہے۔ زرعی قرضے معاف کیے جائیں اور ٹریکٹر و دیگر زرعی آلات سستے کیے جائیں کانفرنس سے ایڈووکیٹ مظہر راہوجو، عبداللہ چانڈیو، شازیہ احمدانی، سونھن گوپانگ، انور نوحاڻي، محمود رخشاڻي، شوکت نوحاڻي، ساتھی مصطفیٰ نظاماڻي، نثار بھرگڑی، سائیں بخش خاصخیلی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔



