ننگرپارکر میں عوامی تحریک کےرہنما کامریڈ مگهنو مل کولہی کی برسی کے موقع پر پارٹی کی جانب سے خراج عقدت پیش

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی)عوامی تحریک کے سینئر کارکن، سندھ کے حقوق کے لیے لانگ مارچ کرنے والے اور محترم رسول بخش پلیجو کے ساتھی، ساری زندگی ہاریوں، مزدوروں اور غریب عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے کامریڈ مگهنو مل کولہی کی برسی کے موقع پر گزشتہ روز ننگرپارکر کے قریب گاؤں آدھیگام میں جلسۂ عام منعقد کرکے انہیں شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
جلسے میں عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی رہنما ایڈووکیٹ ممتاز کھوسو، اوبھایو جونیجو، ایاز کھوسو، اے بی چارو، ایڈووکیٹ دیوت رائے، بھیرو کولہی، کھینراج کولہی، داھو کولہی، توگاچی، پھلاج کولہی، کرشن لال، پیاسی میگھواڑ، ہر سنگھ بھیل، کلجی کولہی، سومجی، ساتھی منسک کولہی، نیت راج کولہی، لاکو کولہی، پارو کولہی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے کہا کہ کامریڈ مگهنو مل کولہی نے ساری زندگی مظلوم طبقوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے سندھ کے تحفظ کے لیے عوامی تحریک کی جاری جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ گورانو ڈیم اور کارونجهر کی کٹائی کے خلاف عوامی تحریک کے احتجاجوں میں پیش پیش رہے۔ بیماری کے باوجود وہ عملی جدوجہد میں سرگرم رہے، ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک بار پھر سندھ کے وجود پر حملہ آور ہوئی ہے۔ صدر آصف زرداری کے پاس آئینی اختیار ہے کہ سندھ کی تقسیم کی مہم چلانے والے گورنر کامران ٹیسوری کو ہٹا دیں، لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت گورنر کو ہٹانے کے بجائے سندھ اسمبلی میں ڈرامے بازی کر رہی ہے۔ سندھ دشمن منصوبوں میں دوسری قوتیں بھی ایک پیج پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے تعلیمی اداروں میں کے ایس پی پالیسی کی پیپلز پارٹی حامی ہے، جس کے تحت سندھی طلبہ کے لیے کراچی کے تعلیمی اداروں کے دروازے بند کیے گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کی فرمائش پر مراد علی شاہ نے سی سی آئی کے اجلاس میں ڈیجیٹل مردم شماری کا فیصلہ کروایا، جس سے سندھ کی آبادی کم ظاہر کی گئی۔ ڈیجیٹل مردم شماری کے ذریعے سندھیوں کو مستقل اقلیت میں بدلنے کی سازش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے وقت ہی سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی، جسے اب عملی جامہ پہنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اتحادی ہیں۔ صدر زرداری نے صدارتی ہاؤس کو دریائے سندھ کی فروخت کے لیے استعمال کیا اور گورنر ہاؤس کے ذریعے سندھ کی وحدت پر ہونے والے حملوں میں بھی پیپلز پارٹی کی قیادت شامل ہے، کیونکہ گورنر صدر کے ماتحت ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں بے گناہ افراد کو قتل کرنے والے ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کو جیلوں میں بھیجنے کے بجائے فارم 47 کے تحت اسمبلیوں میں لاکر وزارتیں دی گئیں۔ موجودہ اسٹیبلشمنٹ جنرل ضیاء کی حکمت عملی کے تحت سندھ کے دیہات میں ڈاکوؤں اور شہروں میں ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کو مسلط کر رہی ہے۔ سندھی قوم جنرل ضیاء کے پالے ہوئے ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے لیے ریفرنڈم کی بات کرنے والے جہاں سے آئے ہیں، وہیں جا کر ریفرنڈم کرائیں۔ سندھ سندھیوں کا تاریخی وطن ہے۔ سندھ کی وحدت سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جائے۔ ایم کیو ایم کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک معروف دہشت گرد گروہ ہے۔
وسند تھری نے مزید کہا کہ کارونجهر سندھ کی ثقافتی علامت ہے اور اس کی کٹائی کی سازش کی جا رہی ہے۔ حکمران کارونجهر کو کمپنیوں کے ہاتھ فروخت کر چکے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ مگهنو کولہی کی طرح کارونجهر کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ جدوجہد کریں۔
انہوں نے کہا کہ تھرپارکر سے کوئلہ اور دیگر معدنیات کی مد میں اربوں روپے وصول کیے جاتے ہیں، لیکن تھر کے عوام کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ تھر اور عمرکوٹ کے سیکڑوں گاؤں پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔ اسلام کوٹ اور مٹھی کو فراہم کیا جانے والا پانی بھی دو ماہ سے بند ہے۔ پیپلز پارٹی کے حکمرانوں نے پورے تھر کو کربلا میں بدل دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھر سے بجلی پیدا ہوتی ہے مگر تھر کے لوگوں کو نہیں دی جاتی۔ جدید دور میں بھی موبائل سگنلز موجود نہیں، اس سے بڑھ کر حکومتی نااہلی کیا ہوگی۔ چراگاہوں پر قبضے کیے گئے ہیں اور اب کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے سندھ کی 13 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو پرائیویٹ لمیٹڈ ایک قبضہ گیر کمپنی ہے جس کی نظر تھر کی زمینوں پر بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کا اصل مقصد ملک کو فروخت کرنا ہے، سرمایہ کاری بڑھانا نہیں۔ اس ادارے کے ذریعے فوڈ سیکیورٹی عوام سے چھین لی جائے گی اور زمینیں غیر ملکی کمپنیوں کو دے کر ملک کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔
جلسے سے ممتاز کھوسو، اوبھایو جونیجو، ایاز کھوسو، اے بی چارو، ایڈووکیٹ دیوت رائے، بھیرو کولہی، کھینراج کولہی، داھو کولہی، توگاچی، پھلاج کولہی، کرشن لال، پیاسی میگھواڑ، ہر سنگھ بھیل، کلجی کولہی، سومجی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا.



