لسانی تنوع ہماری طاقت، اردو رابطے کی زبان اور مادری زبانیں اولین شناخت ہیں، صدر آصف علی زرداری

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک کی متنوع مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے عزم کی تجدید پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ لسانی تنوع ہماری طاقت کا سرچشمہ اور جامع قومی ترقی کی بنیاد ہے، اردو رابطے کی زبان جبکہ مادری زبانیں اولین شناخت ہیں۔
آج مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ زبان شناخت، وقار اور مواقع کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، پاکستان پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، سرائیکی، براہوی، ہندکو، شینا، بروشسکی، وخی اور ہزارگی سمیت زبانوں کے ایک بھرپور گلدستے کا گھر ہے، جو صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ اور ثقافتی تبادلے کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ اگرچہ اردو وفاق کو جوڑنے والی رابطے کی زبان ہے، تاہم مادری زبانیں بچوں کی پہلی آواز اور ورثے میں ملنے والے علم اور روایت کی بنیادی امین ہیں، زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ اس بات کی تشکیل کرتی ہے کہ معاشرے اپنے ماضی کو کیسے یاد رکھتے ہیں، سماجی زندگی کو کیسے منظم کرتے ہیں اور اپنے اردگرد کی دنیا کو کیسے سمجھتے ہیں۔ زبان اخلاقی روایات، مقامی دانش اور ورثے میں ملنے والے تجربات کو اپنے اندر سموئے ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی زبان کمزور ہوتی ہے تو صرف الفاظ ہی نہیں کھوتے بلکہ حقیقت کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک منفرد زاویہ بھی ماند پڑ جاتا ہے، اصل چیلنج تنوع نہیں بلکہ اتحاد کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ ورثے کا تحفظ کرنا ہے، انہوں نے زور دیا کہ یکجہتی کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ باہمی اعتراف اور مساوی وقار پر مبنی ہوتی ہے۔
صدر زرداری نے تعلیم اور روزمرہ زندگی میں مادری زبانوں کی عملی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، انہوں نے کہا کہ جو بچہ گھر میں بولی جانے والی زبان میں تعلیم کا آغاز کرتا ہے، اس میں فکری صلاحیتوں کی بہتر نشوونما، اسباق کی بہتر سمجھ، اعتماد میں اضافہ اور تعلیم جاری رکھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اس کے برعکس اگر تعلیم کسی اجنبی زبان میں دی جائے تو سیکھنے میں خلا پیدا ہوتا ہے اور ابتدائی جماعتوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ کسان، ہنرمند اور چھوٹے کاروباری افراد اکثر خدمات، منڈیوں اور معلومات تک رسائی کے لیے مقامی زبانوں پر انحصار کرتے ہیں، مادری زبانوں کو تسلیم اور فروغ دینے سے نہ صرف ثقافتی شناخت مضبوط ہوگی بلکہ خواندگی، نقل و حرکت اور معاشی شرکت میں بھی اضافہ ہوگا۔
صدر نے تحقیق اور بین الاقوامی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مادری زبان پر مبنی کثیر لسانی تعلیم فہم کو بہتر بناتی ہے اور اضافی زبانوں کے حصول میں مدد دیتی ہے، جبکہ مقامی اظہار میں پوشیدہ مقامی علم کا بھی تحفظ کرتی ہے، پاکستان کے تناظر میں علاقائی زبانوں کو تعلیم اور عوامی زندگی میں دانشمندانہ طور پر شامل کرنا قومی ہم آہنگی کو مضبوط بنا سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ہر برادری کے ورثے کو وفاق میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئیے اس دن کے موقع پر پاکستان کی تمام مادری زبانوں کے احترام اور فروغ کے عزم کی تجدید کریں، نئے ٹیکنالوجی کے دور میں کسی بھی زبان کو فروغ دینا مشکل نہیں رہا۔
صدر مملکت نے کہا کہ ملک بھر میں بولی جانے والی زبانوں کے تنوع کا احترام کرکے پاکستان اپنی جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط بنا سکتا ہے اور اس امر کو یقینی بنا سکتا ہے کہ ہر شہری خود کو سنا، سمجھا اور نمائندگی یافتہ محسوس کرے۔



