اے آئی کی تیز رفتار ترقی پر اقوام متحدہ کا انتباہ، عالمی قوانین بنانے کا مطالبہ

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)اقوام متحدہ کے سربراہ نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی میں برق رفتاری سے پیشرفت کے حوالے سے انتباہ کیا ہے۔
سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں اے آئی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ہونے والے 2 روزہ اجلاس کے موقع پر وفود سے خطاب کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری انتونیو گوتریس نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی میں پیشرفت توقعات سے بھی زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے اور اس سے جڑے ممکنہ خطرات میں کمی کے لیے عالمی سطح پر قوانین کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ایک ایسی ٹیکنالوجی جو معیشت کو بدل سکتی ہو، کام کرنے کے عالمی انداز میں تبدیلیاں لاسکے، عام انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو اور سکیورٹی توازن بدل دے، بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، یہاں تک کہ اسے تیار کرنے والے افراد بھی اس کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ ‘تنوع کو حفاظتی باڑ کی ضرورت ہوتی ہے، اگر اے آئی بہت زیادہ طاقتور ہے تو اس حوالے سے اصولوں کے تحت لانا ضروری ہے’۔
اس اجلاس کا مقصد کسی معاہدے پر کام کرنا نہیں بلکہ اے آئی کے ممکنہ خطرات کی روک تھام کے لیے اصول طے کرنا ہے جبکہ اس ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے مواقعوں کو ہر ایک تک پہنچانے کے ذرائع پر غور کرنا ہے۔
اجلاس میں شریک وجود اقوام متحدہ کی حمایت سے قائم کیے گئے 40 ماہرین کے پینل کی رپورٹ پر غور کریں گے۔
ان ماہرین کی جانب سے اے آئی کے حوالے سے پہلے حکومتی اور خودمختار تجزیے کو اجلاس کے موقع پر پیش کیا جائے گا۔
زیادہ جامع رپورٹ اگلے سال اقوام متحدہ کے دوسرے عالمی اجلاس کے موقع پر پیش کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔



