پنجگور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں آگ لگانے سے تباہ

کوئٹہ(جانوڈاٹ پی کے)بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔
پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ پنجگور شہر سے تقریباً 60 کلومیٹر دور پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ شروع کردی اور فرار ہوگئے، جاں بحق افراد میں سے دو افراد کی شناخت داود ولد عوض جان اور سلیم ولد حاجی فیض محمد کے نام سے ہوئی جو سرحدی گاؤں نکر کے رہائشی تھے بقیہ چار افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ جاں بحق افراد کی لاشیں قریبی اسپتال منتقل کردی گئیں جہاں طبی عملے نے ان کی موت کی تصدیق کی۔
پولیس نے بتایا کہ حملے کی نوعیت ابھی تک واضح نہیں ہوسکی تاہم علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
ضلع پنجگور کے اسسٹنٹ کمشنر امیر جان نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ سرحدی نوعیت کا ہے جہاں اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، تاہم اب تک کوئی گروپ یا تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر دہشت گردی کا واقعہ ہوسکتا ہے لیکن مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی رپورٹ کے جاری کی جائے گی۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور انہوں نے اچانک فائرنگ شروع کی جس سے 6 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ حملے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی لوگوں نے اپنے گھروں میں پناہ لی۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی ٹیمیں تقریباً ایک گھنٹے بعد جائے وقوع پر پہنچیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے پنجگور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں گولیوں لگنے سے ہوئیں۔
واضح رہے کہ چیدگی دستک کا علاقہ پنجگور کے شمال مغرب میں واقع ہے جو ایران کی سرحد کے قریب ہے، یہاں اکثر اسمگلنگ اور دیگر سرحدی مسائل کی وجہ سے کشیدگی رہتی ہے۔
بلوچستان میں اس طرح کے حملے اکثر بلوچ علیحدگی پسند گروپوں سے منسوب کیے جاتے ہیں، جو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی آپریشنز کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں پنجگور ضلع حال ہی میں متعدد چھوٹے بڑے واقعات کا شکار رہا ہے، جن میں آئی ای ڈی دھماکے اور فائرنگ شامل ہیں۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے نہ صرف عوام کو نشانہ بنایا بلکہ گاڑیوں کو آگ لگانے سے یہ واضح ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا پولیس حکام کے مطابق مزید تحقیقات جاری ہے۔



