اچھی طرح جانتے ہیں غدارکون ہے؟،علیمہ خان پارٹی قیادت پر برس پڑیں
بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر کہاں غائب ہیں؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے پارٹی قیادت پر شدید تنقیدکرتے ہوئےکہا ہے کہ جو بانی کے بیانیےکا بوجھ نہیں اٹھاسکتا، وہ سائیڈ پر ہو جائے، پارٹی ہماری اجازت کے بغیر بانی کی صحت پر کوئی بیان یا فیصلہ نہ دے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پارٹی ایسے ریلیکس ہے جیسے بانی کا علاج ہوگیا ہے، بانی کی صحت کے معاملے پر پی ٹی آئی کی طرف سے کچھ ہوتا ہوا نہیں دیکھ رہے، بس بہت ہوگیا جو بانی کے بیانیےکا بوجھ نہیں اٹھاسکتا، وہ سائیڈ پر ہو جائے۔
علیمہ خان نے ہدایت کی کہ پارٹی ہماری اجازت کے بغیر بانی کی صحت پر کوئی بیان یا فیصلہ نہ دے، ہماری اطلاع یہ ہےکہ سرکاری ڈاکٹروں پر دباؤ ڈالا جارہا تھا، اب ہم پارٹی کو بند کمروں میں نہیں میڈیا کے سامنے آ کر پیغام دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی نے جو دعوے کیے ان کو کاؤنٹر نہیں کیا گیا، محسن نقوی سے معلوم ہوا بیرسٹرگوہر جیل جارہے ہیں، محسن نقوی سےاپنے اہلخانہ کی معلومات ملیں گی یا اپنی پارٹی سے؟محسن نقوی نے بہنوں کو قصور وار کہا، اس بیان کا جواب کیوں نہیں دیا گیا، پارٹی خاموش ہے، ہمیں جو باتیں محسن نقوی سے پتا چل رہی ہیں وہ بیرسٹرگوہر سے پتا چلنی چاہیے تھیں، بانی نےکئی بار کہا کہ میرے وکلا سےکہیں کہ میرے کیسز لگوائیں، ہم آ کر بیٹھ سکتی ہیں تو وکلا کیوں نہیں آتے؟
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر کہاں غائب ہیں؟ حامد خان سینیٹر بننے کے بعد نظر ہی نہیں آئے، بیرسٹر گوہر پارٹی چیئرمین بن گئے، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیسز تک نہ لگوا سکے ، ہم اچھی طرح جانتے ہیں پارٹی میں غدار کون ہے، شرم ناک ہے کہ پارٹی رہنما اکیلے محسن نقوی سے رابطے کرتے رہے، انہیں نہیں بتایا، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ان کی مشاورت کے بغیر کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں ہوگا، بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ ہے،میں وکیل ہوتی تو رات بھربیٹھ کرتیاری کرتی اورکیس فائل کرتی، جتنے وکلا کو ٹکٹ ملے ہیں، سارا سارا دن جیل کے باہرکھڑے ہوتے تھے، اب نظر نہیں آتے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ہم کئی کئی گھنٹے عدالت آ کر بیٹھتے ہیں لیکن جسٹس ڈوگر کیسز نہیں لگاتے کیونکہ انھیں لاہور ہائی کورٹ سے اسی مقصد کے لیے لایا گیا تھا کہ تم نے عمران خان کے کیسز نہیں لگانے۔
انہوں نے مزیدکہا کہ محسن نقوی یا پارٹی رہنما جو مرضی کرلیں، ہم اب اپنے بھائی کےلیے بولیں گے۔



