آکاش سندھ کاسرخیل شاعر،وہ شخصیت تھا جو کروڑوں لوگوں کے دلوں میں مدفون ہے،سردار شاہ

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)سندھ کے نامور شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کی پہلی برسی کی تقریب سے بدین جم خانہ میں خطاب کرتے ہوئے سندھ کے صوبائی وزیر سید سردار شاہ نے کہا کہ آکاش سندھ کا سرخیل شاعر تھا۔ لوگ روز قبروں میں دفن ہوتے دیکھے جاتے ہیں، مگرآکاش وہ شخصیت تھا جو کروڑوں لوگوں کے دلوں میں مدفون ہے۔ آکاش ہمیشہ خواب دیکھتا رہا اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے جدوجہد کرتا رہا۔ اس نے کبھی حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ سیاست، ادب اور شاعری میں اپنے علم، شعور اور مستقل مزاجی کے ذریعے اس نے اپنا اعلیٰ مقام بنایا۔ سندھ بھر میں اس کے دوستوں اور چاہنے والوں کا وسیع حلقہ ہے، یہاں بھی ہزاروں لوگ اس کی محبت اور شفقت کے مثالی جذبے کی نشانی بن کر پہنچے ہیں صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ ڈاکٹر آکاش انصاری کی غیر موجودگی عجیب اور دل کو نہ ماننے والی ہے۔ آکاش یہاں کی تقریبات کی رونق تھا، وہ ہمارا دوست اور ساتھی تھا۔ اس کے ساتھ ہمارے تعلقات اتنے گہرے تھے کہ اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ وہ انقلابی عوامی شاعر تھا، اس کے اپنے نظریات تھے۔ اس نے خود جدوجہد کی، قربانیاں دیں، کبھی تھکا نہیں اور نہ ہی مایوس ہوا۔ جب عالمی سطح پر تبدیلیاں آئیں تو اس نے بھی اپنے راستے بدلے اور جدوجہد جاری رکھتے ہوئے اپنی شاعری کو نئے رخ دیے۔ کبھی کبھی کچھ اموات ایسی ہوتی ہیں جن کا مقصد عوامی دھارے کو کاٹنا ہوتا ہے۔ آکاش کی محبت اور شفقت عام لوگوں اور اپنے عزیزوں کے لیے مثالی تھی۔ وہ برداشت اور تحمل کا پیکر تھا، دکھ اور غم کے باوجود اس نے انہیں کبھی خود پر غالب نہیں آنے دیا صوبائی وزیر سید ذوالفقار شاہ نے کہا کہ ثقافت کے محکمے کی جانب سے سندھ کے نامور شاعر کی برسی منانا ہمارے لیے اعزاز ہے۔ آکاش انصاری کی شاعری کو سندھ کے عوام نے اپنی آواز سمجھ کر دل میں بسایا، مگر اس کا قتل اس شخص نے کیا جسے اس نے بیٹے کا درجہ دیا تھا، جو ہمارے معاشرے کی ایک بڑی بدقسمتی ہے۔ آکاش انصاری اس خطے کا بڑا شاعر تھا۔ بھارت میں ایک ایپ تیار کی گئی ہے، آکاش یہاں بھی ایسی ایپ بنانے کا حامی تھا مگر وقت نے اس کا ساتھ نہ دیا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر دل افسردہ ہے۔ ہم نے ایاز لطیف پلیجو سمیت تمام سندھ دوستوں کو بھی اس پروگرام کی دعوت دی تھی۔ ثقافت کے محکمے کو آکاش انصاری کو یاد کرنے پر خوشی ہے اور ہم ہر سال یہاں آکاش کو ضرور یاد کریں گے آ کاش انصاری کی صاحبزادی میران آکاش انصاری نے کہا کہ بابا نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے سندھ کے ماروئڑوں اور جھونپڑیوں میں رہنے والوں کے دکھ درد کو اپنی شاعری کے ذریعے اجاگر کیا اور دنیا کے سامنے پیش کیا۔ وہ نرم دل، رحم دل اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ ان کی غیر مطبوعہ شاعری کے قریب بیس کتابیں ہیں جن کی اشاعت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ جلد ہی ایک بڑی تقریب میں ان کتابوں کی رونمائی کرکے انہیں قارئین تک پہنچایا جائے گا تقریب سے ایم پی اے تاج محمد ملاح، میر حسن آریسر، خالد گل نظاماڻي، اور دیگر نے بھی خطاب کیا، جبکہ اس موقع پر ایم پی اے یاسمین شاہ، پروفیسر طفیل احمد چانڈیو، پروفیسر نقاش علوانی، پروفیسر عبداللہ ملاح، بخشڻ مہراڻوی، میر بلیدی، خادم تالپر، علی محمد انصاری اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔



