لاڑکانہ: ورلڈ بینک صدر اجے بانگا کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ، سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کو عالمی مثال قرار دے دیا

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے)صدر ورلڈ بینک اجے بانگا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ہمراہ لاڑکانہ کے گاؤں بہاول جت، تعلقہ ڈوکری پہنچے، جہاں مقامی افراد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ حکومت سندھ اور ورلڈ بینک کے تعاون سے بہاول جت میں 145 سیلاب متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کی گئی ہے، جن میں سے 83 فیصد گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کو دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی خواتین بااختیار ہیں اور حکومت سماجی شمولیت کو مزید فروغ دے رہی ہے۔

صدر ورلڈ بینک اجے بانگا نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹیز (SPHF) پروگرام کے تحت تعمیر شدہ گھروں کا معائنہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے 21 لاکھ مکانات کی تعمیر سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کا ایک تاریخی اقدام ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی بحالی کوششوں میں شامل ہے۔ ان کے مطابق کمیونٹیز کو اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کے لیے بااختیار بنایا جا رہا ہے۔

اجے بانگا نے گھروں کی تعمیر پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کمیونٹی قیادت میں ہاؤسنگ پروگرام ہے۔ انہوں نے مقامی افراد میں گھل مل کر گفتگو کی اور ان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ اس موقع پر کشمور سے تعلق رکھنے والا سیلاب متاثرہ سکھ خاندان بھی بہاول جت پہنچا، جس کے ساتھ صدر ورلڈ بینک اور وزیراعلیٰ سندھ نے ملاقات اور تصاویر بنوائیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ اس ماڈل کے تحت خاندان خود اپنے گھر تعمیر کرتے ہیں، جس سے آمدن کمیونٹی میں ہی برقرار رہتی ہے اور مقامی مزدوروں کو روزگار ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی ردعمل کو ایک جامع بحالی پروگرام میں تبدیل کیا گیا ہے، جس کے تحت 15 لاکھ سے زائد مکانات زیرِ تعمیر جبکہ 7 لاکھ 50 ہزار مکانات مکمل ہو چکے ہیں۔ 15 لاکھ 50 ہزار سے زائد مستفید افراد کے بینک اکاؤنٹس بھی کھولے جا چکے ہیں۔

صدر ورلڈ بینک نے بتایا کہ عالمی بینک نے پروگرام کے آغاز سے ہی مکمل حمایت فراہم کی اور سیلاب متاثرین کے لیے 950 ملین ڈالر کی امداد دی، جس میں ابتدائی 500 ملین ڈالر اور اضافی 450 ملین ڈالر شامل ہیں۔ ان کے مطابق پروگرام کا مرکز غریب ترین گھرانے ہیں اور ہر خاندان کو تقریباً 1400 ڈالر مالیت کے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے ہر گھرانے کو رسمی بینکنگ سہولیات تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور اب دس لاکھ سے زائد خواتین زمینی مالکانہ حقوق رکھتی ہیں، جبکہ مزید خواتین کو بھی یہ حقوق دیے جائیں گے۔

اجے بانگا اور وزیراعلیٰ سندھ نے خواتین کی معاشی سلامتی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ آٹھ لاکھ خواتین کو مالی فائدہ پہنچایا گیا ہے، خواتین کے لیے نقد گرانٹس اور چھوٹے کاروبار کے مواقع بھی پیدا کیے گئے ہیں۔

صدر ورلڈ بینک نے کہا کہ خواتین کی شمولیت سے گھریلو آمدن اور مقامی معیشت مضبوط ہوتی ہے، جبکہ محفوظ گھروں، صاف پانی، صفائی ستھرائی اور بہتر غذائیت کے ذریعے صحت مند اور لچکدار کمیونٹیز تشکیل دی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے اس ماڈل کو انسانی سرمائے کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد اور عالمی مثال قرار دیا۔

دورے کے دوران صدر ورلڈ بینک اجے بانگا نے بہاول جت گوٹھ میں یادگاری امرود کا پودا لگایا، کمیونٹی سینٹر میں خواتین سے ملاقات کی اور ان کے ہاتھ کے ہنر سے بنائی گئی رلیوں، پرسوں اور دیگر اشیاء میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ خواتین نے انہیں سیلاب میں تباہ ہونے والے گھروں سے نئے مکانات تک کے سفر سے آگاہ کیا، جبکہ اس موقع پر خواتین میں مالکانہ حقوق کی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کا آغاز کیا گیا، جس کے لیے مجموعی طور پر 6000 ارب روپے درکار تھے، جن میں سے 25 فیصد ورلڈ بینک نے فراہم کیے، جس پر وہ عالمی بینک کے شکر گزار ہیں۔

صدر ورلڈ بینک اجے بانگا نے اردو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو مالکانہ حقوق ملنا ان کی آزادی کی علامت ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ خواتین ہاتھ کے ہنر سے روزگار حاصل کر رہی ہیں اور صاف پانی کی دستیابی ان کی زندگیوں میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔

مزید خبریں

Back to top button