دباؤ یا جنگ؟ ایران کا واضح پیغام، انصاف کے بغیر مذاکرات قبول نہیں

استنبول (جانوڈاٹ پی کے)ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران تمام تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کو تیار ہے، تاہم مذاکرات انصاف، قانون اور برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، دھمکیوں کے ماحول میں بات چیت ممکن نہیں۔

استنبول میں ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں کسی قسم کی بات چیت قبول نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان فی الحال کسی ملاقات کا کوئی شیڈول طے نہیں ہوا، تاہم ایران منصفانہ اور مساوی سطح پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہے اور اس سلسلے میں ترکیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ ایران مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے اور اب ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ محتاط حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار امریکا کی براہِ راست مداخلت کی صورت میں صورتحال بالکل مختلف ہو سکتی ہے اور خدشہ ہے کہ تنازع دو طرفہ جنگ سے آگے بھی بڑھ سکتا ہے۔

عباس عراقچی نے زور دیا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا واحد حل سفارت کاری ہے اور ایران شدید دباؤ کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے یورپی اقدامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپی ممالک پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں تو ایران بھی یورپی افواج کو دہشت گرد سمجھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی نے کہا کہ یورپی یونین ایران کے داخلی قوانین سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور ایرانی پارلیمنٹ اپریل 2019 میں پاسدارانِ انقلاب سے متعلق قانون منظور کر چکی ہے، جس کے تحت پاسداران کو بلیک لسٹ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button