ایلون مسک کا ’’اوڈیسی‘‘ کا اے آئی ورژن بنانے کا اعلان

واشنگٹن (ویب ڈیسک) ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے ہدایت کار کرسٹوفر نولن کی فلم "اوڈیسی” کا مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ورژن بنانے کا اعلان کر دیا۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر بتایا کہ یہ فلم گروک امیجن (Grok Imagine) کی مدد سے تیار کی جائے گی اور اسے تاریخی اعتبار سے زیادہ درست رکھا جائے گا تاکہ ہومر کی اصل تخلیق کی حقیقی عکاسی کی جا سکے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ تقریباً تین منٹ پر مشتمل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر پیش کیا گیا۔
اس سے قبل ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی بھی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیا تھا: "میں تیار ہوں۔”
ایلون مسک حالیہ دنوں میں کرسٹوفر نولن کی فلم "اوڈیسی” پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نولن نے ایوارڈز کے حصول کی خاطر اصل کہانی میں تبدیلیاں کیں۔
مسک نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض کرتے ہوئے اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں کاسٹ کرنے کے فیصلے پر تنقید کی، جبکہ ایک موقع پر انہوں نے کرسٹوفر نولن کو نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا فلم ساز بھی قرار دیا۔
دوسری جانب تنازعات کے باوجود کرسٹوفر نولن کی فلم "اوڈیسی” نے شاندار آغاز کرتے ہوئے افتتاحی ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کر لیا ہے۔



