کالعدم ایکشن کمیٹی نے ریاست کیخلاف نعرے بلند کیے،ایک ماہ میں ریاست کو 15 ارب کا نقصان پہنچا،سیکرٹری اطلاعات آزاد کشمیر

مظفرآباد(جانوڈاٹ پی کے)سیکرٹری اطلاعات آزاد جموں و کشمیرمحمد راشد حنیف نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے ریاست کے خلاف نعرے بلند کیے اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات آزاد جموں و کشمیر محمد راشد حنیف نے کہا کہ کالعدم کمیٹی کا پہلا دھرنا شروع ہوا تو ان کے شرپسند عناصر نے مشتعل کارروائیاں کیں، درخت گراکر راستے بند کیے جس سے لوگوں کو مشکلات ہیں جبکہ ان لوگوں نے آزاد کشمیر میں ریاست اور اداروں کے خلاف نعرے بلند کیے۔
راشد حنیف نے کہا کہ مئی میں ان کے شرپسند عناصر نے آزادکشمیر میں پر تشدد کارروائیاں کیں، پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا ان کی وردیاں لٹکائیں تھیں، کالعدم کمیٹی کے نعرے بتاتے ہیں کہ ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے۔
سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ کالعدم کمیٹی والوں نے اپنے مظاہروں میں بچوں اور خواتین کو استعمال کیا، جس حد تک مطالبات پر بات کی جاسکتی تھی اس حد تک کی گئی، راولاکوٹ اور پونچھ کے لوگ پرامن لوگ ہیں، آزاد کشمیر کے لوگ پرامن خطے کے باسی ہیں، وہ اس مہم میں شامل نہ ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ کالعدم کمیٹی امجد ایوب مرزا جیسے ملک دشمن عناصر سے مدد لے رہی ہے، یہ شخص جو بھارتی فنڈنگ سے یورپ میں کشمیریوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سرغنوں اور شرپسندوں پر 79 ایف آئی آرز درج ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ کالعدم کمیٹی نے پرتشدد کارروائیوں سے کشمیر کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی، ایک ماہ کے دوران ریاست کو مجموعی طور پر 15 ارب روپے کا نقصان پہنچا، عوامی حقوق کی تحریک کو شرپسند عناصر نے ہائی جیک کر لیا ہے، آزاد کشمیر حکومت نے پہلے ہی آٹا اوربجلی پر بڑی سبسٹڈی دی ہوئی ہے، کالعدم کمیٹی کی 5 جولائی کی ہڑتال کی کال عوام اور تاجروں نے مسترد کر دی، ان کے سرغنوں کی تقریروں میں منگلا سے بجلی کی ترسیل روکنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کی پرتشدد کارروائیوں سے متعلق سیکرٹری اطلاعات نے بتایاکہ مئی 2023 میں شرپسند جتھے نے اسسٹنٹ کمشنر ڈڈیال کے دفتر پر حملہ کیا اور سرکاری گاڑی جلائی، اسلام گڑھ میں سب انسپکٹر کو گولی مار کر شہید کیا گیا، اے سی کھوئی رٹہ کی گاڑی جلائی گئی ، سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھینا گیا، نومبر 2024 میں اسلام آباد پولیس کو یرغمال بنا کر ان کی وردیاں اتاری گئیں۔
سیکرٹری اطلاعات کے مطابق پلاک میرپور کے مقام پر اسلام آباد پولیس کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، چمیاٹی دھیرکوٹ میں اسسٹنٹ کمشنر پر خنجر سے وار کر کے قتل کی کوشش کی گئی، ایس پی باغ ریاض مغل سمیت دیگر اہلکاروں کو یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، دھیرکوٹ میں فائرنگ کرکے 3 پولیس اہلکاروں اور دو شہری شہید کیے گئے۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ کالعدم کمیٹی نے راستے بند کرنے کیلئے سیکڑوں درخت کاٹ دیے، ہجیرہ میں جبراً بازار بند کروا کر اشیائے خورد و نوش کے ٹرک لوٹے گئے، سرغنہ عمر نذیر نے دکانداروں کو نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں، کالعدم کمیٹی نے مسجدوں کواپنے اعلانات کیلئے استعمال کیا، غزہ اور مقبوضہ کشمیر کی تصویریں لگا کر پروپیگنڈا کیاجا رہا ہے۔
اس موقع پر ڈی آئی جی آزاد کشمیر پولیس عرفان مسعود کا کہنا تھا کہ ہجیرہ میں سڑکوں کی جبری بندش کے باعث طبی امداد نہ ملنے سے 3 خواتین جاں بحق ہوئیں، جاں بحق خواتین میں 2 ڈیلیوری کیسز اور ایک عارضہ قلب کی مریضہ شامل تھیں، کالعدم کمیٹی کے کارندے گاڑیاں روک کر شہریوں اور سرکاری ملازمین پر تشدد کرتے رہے۔
ان کا کہناتھاکہ والدہ کے جنازے پر جانے والے اسلام آباد پولیس کے اہلکارکو راولاکوٹ کے قریب تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اہلکار سے گن پوائنٹ پر اداروں کے خلاف زبردستی بیان ریکارڈ کرایا گیا، ایک ماہ کے دوران 17 احتجاجی کارندوں سے مہلک ہتھیار اور کیلوں والے ڈنڈے برآمد کیے گئے، 5جولائی کو ڈڈیال میں خواجہ مہران کی ایما پر پولیس پر فائرنگ کی گئی، 5 اہلکار زخمی ہوئے، کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کرے۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرین میں مسلح جتھے ہیں اور وہ لوٹ مار کرتے ہیں، رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کیے گئے راستے کھلوائے جائیں گے۔



