سورج کی روشنی سے سمندری پانی میٹھا، چین نے سستی اور ماحول دوست واٹر ٹیکنالوجی متعارف کرا دی

بیجنگ(جانوڈاٹ پی کے)چین کے سائنسدانوں نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو سمندر کے کھارے پانی کو پینے کے تازہ پانی میں تبدیل کردیتی ہے۔
مگر اہم بات یہ ہے کہ سمندری پانی کو بدلنے کا یہ عمل کسی دکان سے منرل واٹر کی بوتل خریدنے سے بھی سستا ہوگا۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ سمندری پانی سے نمک ختم کرنے کے عمل میں روایتی طور پر بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے باعث ایسا امیر ممالک میں ہی کیا جاتا ہے اور ماحول کے لیے نقصان دہ خام ایندھن کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
مگر چین کے سائنسدانوں نے ایک ایسی پروٹوٹائپ ڈیوائس تیار کی ہے جو ایک سال تک بغیر توانائی کے کام کرسکتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے توانائی کے لیے محض سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور شینزن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے یہ پیشرفت ایک نئے فوٹو تھرمل میٹریل کی بدولت ممکن بنائی اور محققین نے نانو پارٹیکلز کو تھری ڈی اسٹرکچر سے جوڑ دیا جس سے سورج کی روشنی سے سمندری پانی سے نمک کی صفائی کا عمل مؤثر ہوگیا۔
تجربات کے دوران اس میٹریل میں 90.2 فیصد سورج کی حرارت جذب ہوئی جب کہ سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لیے درکار توانائی کی ضرورت 45.7 فیصد تک کم ہوگئی۔
چھوٹے پیمانے پر ایک کلینیکل ٹرائل کے دوران اس سسٹم کو سمندری پانی کو کاشتکاری کے قابل بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس ٹرائل کے دوران زرعی زمین کے 5 اسکوائر میٹر رقبے کے لیے ڈیوائس سے تیار کردہ تازہ پانی کو ہفتوں تک استعمال کیا گیا، پورے ٹرائل کے دوران کسی قسم کی بجلی کی ضرورت نہیں پڑی اور صرف سورج کی روشنی کافی ثابت ہوئی۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ اس پورے عمل کے دوران پانی کے حصول کی لاگت بوتل میں بھرے پانی کو خریدنے سے بھی کم تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وقت کے ساتھ جب ٹیکنالوجی کو زیادہ بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے گا تو بچت بھی زیادہ ہوگی۔



