بحیثیت وزیراعلیٰ جہاں جاؤں گا پولیس اور درکار مشینری ساتھ جائے گی، علی امین گنڈاپور

اسلام آباد میں ہمارے پر امن احتجاج کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ناقابل برداشت ہے‘ اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبے کی خود مختاری اور آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے؛ کابینہ اجلاس میں اظہار خیال ان کا کہنا ہے کہ کے پی ہاؤس واقعے پر قانونی چارہ جوئی کے لیے مشاورت کرکے لائحہ عمل طے کریں گے، کے پی ہاؤس میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، وفاقی حکومت کی طرف سے اس طرح کی فسطائیت اور غیر قانونی اقدامات ناقابل برداشت ہیں، ہم اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبے کی خود مختاری اور آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔علاوہ ازیں کے پی ہاؤس اسلام آباد پر دھاوے کی تحقیقات کرنے کیلئے 11 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے ناموں کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ خیبر پختونخواہ اسمبلی اجلاس میں ہوا، جس کے تحت پارلیمانی کمیٹی میں 7 حکومتی اور 4 اراکین اپوزیشن سے شامل کیے گئے ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے چیئرمین منیر حسین لغمانی ہوں گے، اپوزیشن لیڈر عباد اللہ خان، اختر خان، افتخار علی مشوانی پارلیمانی کمیٹی کے ممبر ہوں گے، محمد عارف، شفیع اللہ جان، آصف خان، احمد کنڈی، عدنان اور محمد نثار کا نام بھی شامل ہے، کمیٹی کے لیے ٹی او آرز بھی طے کیے گئے ہیں، جن کے تحت پارلیمانی کمیٹی خیبر پختونخواہ ہاؤس پر حملے کی تحقیقات کرے گی۔

مزید خبریں

Back to top button