ماحول دوست منصوبہ ، سعودیہ میں نئی حکمت عملی متعارف

ریاض (ویب ڈیسک)سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں پائیدار ترقی اب صرف وژن یا اعلانات تک محدود نہیں رہی بلکہ بڑے ترقیاتی منصوبوں میں اس پر عملی کام تیزی سے جاری ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، فریم ورک اور نگرانی کے نظام کے ذریعے ماحول دوست منصوبوں کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے وژن 2030 کے تحت ماحول دوست ترقی کو اہم ہدف بنایا ہے، تاہم ییل انوائرمنٹل پرفارمنس انڈیکس میں ملک کی درجہ بندی 108ویں نمبر پر ہے، جبکہ ہدف 70ویں نمبر تک پہنچنے کا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں پائیدار ترقی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ پروجیکٹ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی 2025 رپورٹ کے مطابق 35 فیصد اعلیٰ حکام کے مطابق منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے درمیان خلا کامیابی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ پائیداری کے اہداف کو منصوبوں کے عملی ڈھانچے میں مؤثر انداز میں شامل نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر توانائی، پانی، فضلہ اور ماحولیات کے اہداف ابتدا ہی سے شامل کر لیے جائیں تو اخراجات کم ہو سکتے ہیں، جبکہ بعد میں تبدیلیاں کرنا مہنگا ثابت ہوتا ہے۔
خلیجی ممالک میں اب پائیداری کو صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ منصوبوں کے بنیادی معیار کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں بڑی کمپنیوں کے لیے ماحولیاتی اثرات کی رپورٹنگ لازمی کی جا رہی ہے، جبکہ سعودی عرب میں نیوم جیسے بڑے منصوبوں میں قابلِ تجدید توانائی، ڈی سیلینیشن اور 100 فیصد ویسٹ واٹر ری سائیکلنگ جیسے اہداف پر کام جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق پانی اور توانائی کا باہمی تعلق اب بھی بڑا چیلنج ہے، کیونکہ زیادہ پانی پیدا کرنے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ سعودی واٹر کمپنی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کم توانائی میں زیادہ پانی پیدا کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج نئی ماحول دوست ٹیکنالوجی ایجاد کرنا نہیں بلکہ اسے بڑے پیمانے پر عملی نظام کا حصہ بنانا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبے طویل مدت میں ماحول، معیشت اور وسائل تینوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔



