ڈاکٹر سارنگ میمن کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں ،ڈاکٹر عزیز میمن

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)چند روز قبل کراچی میں قتل ہونے والے بدین کے رہائشی ڈاکٹر سارنگ میمن کے ماموں اور سندھ دوست اتحاد کے مرکزی صدر ڈاکٹر عزیز میمن نے اپنی رہائش گاہ پر ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بھانجے ڈاکٹر سارنگ میمن کو کرنل حسیب نے قتل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص گروہ ڈاکٹر سارنگ کی اہلیہ پر الزام لگا کر کرنل حسیب کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

سندھ دوست اتحاد کے چیئرمین ڈاکٹر عزیز میمن نے شہید ڈاکٹر سارنگ میمن کے چچا عبدالکریم میمن بھائی سرمد میمن اور منصور میمن کے ہمراہ بدین میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سارنگ میمن کو کراچی میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائے اور قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سخت سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سارنگ کو پہلے ہی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور اب تک کی تحقیقات میں وہی ڈاکٹر سارنگ کا قاتل ثابت ہوا ہے ان کا مطالبہ تھا کہ اسے گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سارنگ کے قاتل کو بچانے اور کیس کا رخ موڑنے کے لیے میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے جس کے تحت ڈاکٹر سارنگ کی اہلیہ پر جھوٹے الزامات لگا کر اصل قاتل کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کے قاتل فریق کی جانب سے تحقیقات پر اثر انداز ہونے اور کیس کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سارنگ کو گوادر میں ملازمت کے دوران ہی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئی تھیں جس کے باعث انہوں نے ملازمت چھوڑ دی تھی بعد ازاں وہ کراچی کے مختلف اسپتالوں میں ملازمت کرتے رہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر سارنگ کی شادی دو سال قبل کراچی کی معزز کاٹھیاواڑی برادری میں ہوئی تھی ان کی اہلیہ بھی ڈاکٹر ہیں اور اس وقت عدت میں ہیں انہوں نے بعض اخبارات میں من گھڑت خبریں شائع کرکے ڈاکٹر سارنگ کی اہلیہ کو اس کیس میں ملوث کرنے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ ڈاکٹر سارنگ میمن کا قاتل اس وقت اداروں کی تحویل میں ہے ۔ڈاکٹر عزیز میمن نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر، کور کمانڈر سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر سارنگ میمن کے قاتل کیخلاف ادارہ جاتی تحقیقات جلد مکمل کرکے اسے پولیس کے حوالے کیا جائے اور سخت سزا دی جائے تاکہ ورثا کو انصاف مل سکے۔

مزید خبریں

Back to top button