حالات دوبارہ کشیدہ،ایران ،امریکاجنگ میں چند گھنٹے باقی؟

لاہور(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ ایک بار پھر انتہا کو پہنچ گیا ہے کیونکہ امریکی سینٹ کام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے مطابق آج، 13 اپریل کو صبح 10 بجے (مشرقی وقت) سے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس ناکہ بندی کا اطلاق ان تمام جہازوں پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے۔ اس فیصلے نے 22 اپریل تک جاری رہنے والی عارضی جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ ایران نے اسے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ناکہ بندی کی کوشش کی گئی تو خطے میں موجود امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
چین نے انتہائی سخت لیکن محتاط لہجے میں امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اس کے تجارتی جہاز ایران کے ساتھ معاہدوں کے تحت اپنی نقل و حرکت جاری رکھیں گے اور کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ برطانیہ اور فرانس نے بھی ٹرمپ کی اس پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے 40 ممالک کی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس معاشی ناکہ بندی کا کوئی سفارتی حل نکالا جا سکے۔ اس سنگین صورتحال میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں اور وہ ہنگامی طور پر سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ ‘دی اکانومسٹ’ جیسے بین الاقوامی جریدوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اب براہ راست جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے وہ معاشی ناکہ بندی کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کا معاہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایران کے سخت ردعمل نے دوبارہ تصادم کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔




