اسلام آباد ٹاکس،مذاکرات کی میز پر اسرائیل کے حمایتی!

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے پہلے دور کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ "ان کہی” کی رپورٹ کے مطابق، ان مذاکرات کو "ناکام” کہنا درست نہیں ہوگا بلکہ سفارتی زبان میں یہ فی الوقت "مؤخر” یا "نتیجہ خیز نہ ہونا” کہلا سکتے ہیں۔ 18 گھنٹے کی طویل نشستوں کے باوجود 47 سالہ بداعتمادی اور پیچیدہ جوہری مسائل کو حل کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہے جس کے لیے مہینوں کی بیٹھک درکار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مذاکرات میں ایران کا پہلا مطالبہ ان کے منجمد اربوں ڈالرز کی واگزاری تھا، جس پر واشنگٹن نے تاحال "نو” (No) کہا ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل ان مذاکرات کے کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچنے پر خوشی کا اظہار کر رہا ہے اور اسرائیلی آرمی چیف نے اپنی فوج کو "ہائی الرٹ” رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے وفد میں شامل جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکف کا جھکاؤ "گریٹر اسرائیل” کی پالیسیوں کی طرف ہے، جو کسی بھی ایسی ڈیل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں جو ایران کے لیے سودمند ہو۔
مذاکرات کے دوران ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو ڈی مائن کرنے اور کھولنے کے حوالے سے بھی بیانات میں تضاد پایا گیا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اسے کھولنے جا رہا ہے جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس کی تردید کی ہے۔ تاہم، ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ اپنی بات چیت اور رابطہ کاری کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ سابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے مطابق، دونوں فریقین کو اپنی سخت شرائط سے ہٹ کر کوئی درمیانی راستہ نکالنا ہوگا، ورنہ خطے میں جنگ کا خطرہ برقرار رہے گا۔
مذاکرات میں اسرائیلی مداخلت، جیرڈ کشنر کا کردار اور ایرانی قیادت کے اگلے لائحہ عمل پر توصیف احمد خان کا مکمل تجزیہ اس لنک پر ملاحظہ کریں




