ترکیہ کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی،عالمی سیاست میں ہلچل

​لاہور/ استنبول(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)​عالمی سیاست میں اس وقت ایک بڑی ہلچل مچ گئی ہے جب ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کے خلاف سخت ترین بیان دیتے ہوئے فوجی مداخلت کا اشارہ دیا ہے۔ صدر اردوان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات نہ ہو رہے ہوتے، تو ترکیہ اب تک اسرائیل کے خلاف جنگی میدان میں اتر چکا ہوتا۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو "جدید دور کا ہٹلر” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ترکیہ کی دفاعی صلاحیتیں اب اس سطح پر ہیں کہ وہ لیبیا اور نگورنو کاراباخ کی طرح کسی بھی وقت اینٹری مار سکتا ہے۔

​اس بیان کے بعد نیتن یاہو اور اسرائیلی قیادت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جنہوں نے ترکیہ کو "سخت نتائج” کی دھمکیاں دی ہیں۔ تاہم، صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ اسپین اور جنوبی کوریا نے بھی اسرائیل کے خلاف سخت موقف اپنا لیا ہے۔ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے لبنان پر اسرائیلی بمباری کو "وحشیانہ” قرار دیتے ہوئے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی و سفارتی معاہدے معطل کر دے۔ مزید برآں، اسپین نے اقوام متحدہ میں اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کی قرارداد بھی پیش کر دی ہے اور آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھولنے کی امریکی کوششوں کو ویٹو کرنے کا اعلان کیا ہے۔

​تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ ترکیہ نیٹو کا دوسرا بڑا فوجی ملک ہے، لیکن فی الحال ترک افواج کو "ہائی الرٹ” پر نہیں رکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیان فی الحال ایک سیاسی و سفارتی دباؤ کا حصہ ہے۔ دوسری جانب، پاکستان، ترکیہ اور قطر کے درمیان ایک نئے "دفاعی اتحاد” کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں، جو خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس وقت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے اور عالمی رائے عامہ اس کے خلاف تیزی سے منظم ہو رہی ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button