اسلام آباد ٹاکس کاپہلا راؤنڈختم شد،دوسراجلدشروع ہونے کی امید

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے تاریخی مذاکرات کا پہلا مرحلہ اگرچہ کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا ہے، تاہم خطے کے لیے ایک بڑی خوشخبری یہ ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان "جنگ بندی” (Ceasefire) برقرار رہے گی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل ایک اہم پریس بریفنگ میں پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور اعتراف کیا کہ پاکستان نے اپنی بساط سے بڑھ کر ان مذاکرات کو سہولت فراہم کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ نے اپنی حتمی پیشکش ایران کو دے دی ہے، جس پر تاحال تہران کی جانب سے کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا، جس کی بنا پر وہ فی الوقت یہ مشن ادھورا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں تعطل کی بنیادی وجہ یو رینیم انرچمنٹ کی حد اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول بنی۔ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم بین الاقوامی نگرانی میں دے اور آبنائے ہرمز کے ٹول ٹیکس میں حصہ داری قائم کرے، جسے ایران نے اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ایرانی وفد کا موقف تھا کہ وہ اپنے سویلین نیوکلیئر پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور آبنائے ہرمز پر ان کا بلا شرکتِ غیرے کنٹرول برقرار رہے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ راؤنڈ بے نتیجہ رہا، لیکن اسے "ناکامی” نہیں کہا جا سکتا کیونکہ "بیک ڈور ڈپلومیسی” کے دروازے ابھی کھلے ہیں اور مستقبل میں مذاکرات کا دوبارہ آغاز اسلام آباد ہی میں ہونے کے قوی امکانات ہیں، کیونکہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کی سیکیورٹی ضمانت پر دونوں فریقین مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔




