گاؤں مالو میگھواڑ کیٹی پر حملہ،لوڑھوں اور جھونپڑیوں کو آگ، احتجاج

تھرپارکر(میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)کلوئی تھانے کی حدود میں گاؤں کیٹی مالو میگھواڑ میں بااثر افراد کی مبینہ ایما پر سمون خان لنڈ، رحیم خان لنڈ اور دیگر مسلح ساتھیوں کے ساتھ گاؤں پر حملہ کر کے میگھواڑ برادری کے لوڑھوں اور جھونپڑیوں کو آگ لگا کر جلا دیا گیا۔

متاثرین سومار میگھواڑ، نہال میگھواڑ، مہندرو میگھواڑ، دلیپ میگھواڑ، سانوڻ میگھواڑ اور دیگر نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ گزشتہ سو سال سے اس گاؤں کے رہائشی ہیں اور ان کا گاؤں سرکاری طور پر منظور شدہ ہے، مگر کچھ عرصے سے بااثر افراد انہیں زبردستی بے دخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سمون خان لنڈ اور رحیم خان لنڈ جرائم پیشہ افراد کو ساتھ ملا کر بار بار گاؤں پر حملے کروا رہے ہیں۔ ان کے مطابق آج بھی مسلح افراد نے گاؤں کا گھیراؤ کر کے گھروں اور لوڑھوں کو آگ لگائی اور دھمکیاں دیں کہ گاؤں خالی کر دیا جائے، ورنہ سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متاثرین نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز بھی ملزمان نے ان کے گھروں پر قبضے کی کوشش کی، جس دوران مزاحمت پر لاٹھیوں سے حملہ کر کے لیموں میگھواڑ کو شدید زخمی کر دیا گیا، جو اس وقت ڈیپلو اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ واقعے کے حوالے سے کلوئی تھانے میں این سی بھی درج کرائی گئی ہے۔

انہوں نے کلوئی پولیس پر الزام لگایا کہ پولیس قانونی کارروائی کرنے کے بجائے بااثر فریق کا ساتھ دے رہی ہے اور جب بھی ملزمان گاؤں پر حملہ کرتے ہیں تو الٹا متاثرین کو ہی تھانے طلب کیا جاتا ہے۔

متاثرہ میگھواڑ برادری نے ایس ایس پی تھرپارکر، ڈی آئی جی میرپورخاص اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور ملوث ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button